هذا المسجد وقف لعامة المسلمين
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲
باہر کی چیز ہے۔ یعنی اس کا تعین صرف خدا کر سکتا ہے۔ انسان اس کی صورت متعین نہیں کر سکتا۔ اب مذکورہ بالا سوال پر غور کیجیے تو منطقی طور پر یہ جواب پہنچاتا ہے وہ یہ کہ ”ہم پیغمبر نہیں بن سکتے تھے، اس لیے ہم نے خدا کی نشست پر قبضہ کر لیا ہے۔ “ حضرت مسیح علیہ السلام بلا شبہ خدا کے پیغمبر تھے مگر آپ کا تذکرہ عیسائیوں کی مقدس کتاب کے باہر کہیں موجود نہیں۔ اس بنا پر بہت سے اہل علم حضرات، مسیح کو غیر تاریخی شخصیت قرار دیتے ہیں۔ کسی شخص کے تاریخی شخص ہونے کا ایک معیار یہ ہے کہ اس کا ذکر معاصر تاریخ (contemporary history) میں موجود ہو۔ چنانچہ عیسائی علما نے بے شمار کوشش کی کہ وہ حضرت مسیح کی معاصر تاریخ میں آپ کا تذکرہ حاصل کر سکیں مگر اس میں انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت مسیح کے بارے میں غیر مذہبی ریکارڈ (secular records) نہیں ملتا۔ پیغمبر عیسیٰ کے زمانے کی غیر مسیحی تحریروں میں براہِ راست ان کا کوئی ذکر نہیں۔ تاہم بے پناہ تلاش کے بعد موجودہ زمانے میں بعض بالواسطہ حوالے معلوم کیے گئے ہیں۔ مثلاً بعد کے کچھ یہودی ربی کی تحریروں میں اس قسم کے جملے دریافت کیے گئے ہیں___ فلسطین میں ایک جادوگر کا ظہور ہوا تھا تاہم یہ تحریر بھی پہلی صدی عیسوی کی ہے یعنی حضرت مسیح کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد کی۔ ایک مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون مصافحہ کے شرعی طریقہ کے بارے میں ہے۔ اس میں ”احادیث نبوی“ کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا افضل ہے۔ تاہم ایک ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ ایک حنفی عالم کا مضمون ہے۔ دوسری طرف اہل حدیث علما یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا افضل ہے، اور ان کے پاس بھی حدیث موجود ہے۔
اس طرح کے امور میں افضل اور غیر افضل کی بحث چھیڑنا سراسر خلاف سنت ہے۔ جس
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues