هذا المسجد وقف لعامة المسلمين
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳
معاملے میں بھی ایک سے زیادہ طریقہ حدیثوں میں موجود ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں توسع ہے۔ یعنی یہ بھی درست ہے اور وہ بھی درست ہے۔ ایسے تمام امور میں دونوں ثابت شدہ طریقوں کو درست قرار دینا چاہیے، نہ کہ ایک کو افضل اور دوسرے کو غیر افضل ثابت کیا جائے۔ اسی لیے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ میں یہ پسند نہیں کرتا ہوں کہ اصحابِ رسول اختلاف نہ کرتے۔ کیوں کہ اگر صرف ایک قول ہوتا تو لوگ تنگی میں پڑ جاتے۔ وہ لوگ نمونہ تھے۔ ان کی اقتدا کی جاتی ہے، اگر کوئی آدمی ان میں سے کسی کے بھی قول کو اختیار کر لے تو وہ آسانی میں ہے (مَا أُحِبُّ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْتَلِفُوا؛ لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ قَوْلًا وَاحِدًا كَانَ النَّاسُ فِي ضِيقٍ وَإِنَّهُمْ أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِهِمْ وَلَوْ أَخَذَ رَجُلٌ بِقَوْلِ أَحَدِهِمْ كَانَ فِي سَعَة) جامع بیان العلم وفضلہ، اثر نمبر 1689۔
بعد کے لوگوں میں جو فقہی اختلافات ہوئے ان سب کا ابتدائی سبب صحابہ کے یہاں موجود تھا۔ مگر فرق یہ ہے کہ صحابہ کا ذہن ان اختلافات میں یہ تھا کہ یہ بھی درست ہے اور وہ بھی درست۔ مگر بعد کے لوگوں نے یہ بدعت کی کہ ان اختلافات میں افضل اور غیر افضل تلاش کرنے لگے۔ بس یہیں سے شدت پیدا ہوئی، اور اختلاف آخر کار نا اتفاقی بن گیا۔ اختلافی امور میں توسع کا ذہن ہو تو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ مگر جب افضل اور غیر افضل کی بحث چھیڑ دی جائے تو وہیں سے تباہ کن اختلاف کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ہندوستان کے سابق وزیرِ اعظم مسٹر مرار جی ڈیسائی یورپ اور امریکا کے بارہ روزہ سرکاری دورہ کے بعد 17 جون 1978 کو نئی دہلی واپس آئے۔ پالَم ائرپورٹ پر جب وہ اپنے ہوائی جہاز سے باہر آئے تو مرکزی وزیر صحت مسٹر راج نرائن نے وزیرِ اعظم کا استقبال کرتے ہوئے ان کو عطر لگایا۔ مرار جی نے کہا: ’’یہاں تو آپ مجھے عطر کی خوشبو سنگھار ہے ہیں لیکن میری غیر حاضری میں آپ کی کرتوتوں کی بدبو آتی تھی۔ مسٹر راج نرائن نے جواب دیا ’’نہیں نہیں مرار جی بھائی، یہ غلط ہے۔ ‘‘ ہندستان ٹائمس18 جون 1978، صفحہ 1
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues