13 اگست 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳
کہا جا سکتا ہے کہ اس دور میں علومِ جدیدہ کی اشاعت کی جو گنگا بہی، اس نے اردو کتابت کے کام میں ایک طویل عمر صرف کردی۔ یہاں تک کہ وہ دہلی کے سب سے اچھے کاتب بن گئے۔ اب یہ حال ہے کہ انھیں کام تلاش کرنے کی ضرورت ۔ دوسرے کاتبوں کے مقابلہ میں وہ چوگنا اجرت لیتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حال ہے کہ ان کے یہاں کام کرانے والوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ انھیں کام کی تلاش میں کہیں نہیں جانا نہیں پڑتا۔ کام خود ان کو تلاش کر کے ان کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ میں نے اپنے تجربہ میں یہ پایا ہے کہ خلیق ٹونکی صاحب انتہائی معیار پسند آدمی ہیں۔ وہ جو بھی لکھتے ہیں اس کو آخری حد تک بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خواہ کوئی بڑا کام ہو یا چھوٹا کام۔ کم پیسہ والا ہو یا زیادہ پیسے والا۔ اپنے اس ذوق کی وجہ سے ماضی میں انھوں نے بہت نقصان اٹھایا ہے پیشہ ورانہ میڈیا دیا جائے آپ اس کی وجہ سے بہت آگے نکل سکتے ہیں لیکن مگر انھیں نقصانات کی وجہ سے انھیں یہ موقع ملا کہ وہ ہندوستان کے نمبر ایک کاتب بن گئے۔ کتا بہم قسم کی تربیت ایک جفز کشا کی تسکین کے لیے ہوتی ہے جنہیں کتابیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو فخر کی نفسیات کو تسکین دیں۔ دوسری وہ جو نصیحت کے جذبات کو ابھاریں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے بے شمار کتابیں لکھی اور چھاپی ہیں۔ مگر یہ کتابیں زیادہ تر پہلے خانہ میں جاتی ہیں ۔ وہ کسی نہ کسی اعتبار سے مسلمانوں کے فخر کے جذبات کو تسکین دیتی ہیں ۔ ان سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا کہ آدمی کے اندر نصیحت کی فکر ابھرے ، اس کے دل میں خود احتسابی کا جذبہ بیدار ہو ۔
موجودہ زمانہ میں لکھی جانے والی کتابوں کو جب ایک مسلمان پڑھتا ہے تو کوئی کتاب اس کے ذہن میں سیاسی قصیدہ بن جاتی ہے اور کوئی کتاب فضائلی قصیدہ ۔ اس قسم کی باتیں آدمی کے اندر پر فخر اہتزاز تو ضرور پیدا کرتی ہیں اور بعض اوقات ان کے زیر اثر وہ بعض ظاہری عمل بھی کرنے لگتا ہے مگر اس کی کوئی گہری بنیاد نہیں ہوتی ۔ ایسے قصائد اس کے دل کو نہیں تڑپاتے، ، وہ اس کے طرزِ فکر کو نہیں بدلتے ، وہ اس کی زندگی میں انقلاب پیدا نہیں کرتے۔
کچھ عباسی خلفاء، معتزلی متکلمین کے اثر سے، قرآن کو مخلوق کہتے تھے۔ چنانچہ جو لوگ قرآن کو ال رسالہ، مئی 2021