Al-Risala · May 2021 · page 14

13 اگست 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۱۴

غیر مخلوق کہتے ان کو انھوں نے سخت سزائیں دیں۔ مثلاً امام احمد بن حنبل (241-164ھ) وغیرہ۔ اس فتنہ کو ختم کرنے میں جن اسباب کا دخل ہے، ان میں بعض لطائف بھی شمار کیے جاسکتے ہیں ۔ یہ فتنہ خلیفہ واثق کے زمانہ میں ختم ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ واثق عباسی کے زمانہ میں ایک ظریف شخص تھا۔ وہ دربار میں لوگوں کو ہنسایا کرتا تھا۔ ایک روز مذکورہ ظریف دربار میں آیا اور سلام کے بعد سنجیدگی کے ساتھ کہا۔ اے امیر المومنین ، قرآن کی موت پر اللہ آپ کو بڑا اجر دے (یا أمیر المؤمنين، أعظم الله أجرك في القرآن)۔

خلیفہ نے حیران ہو کر کہا کہ تمھارا برا ہو، قرآن پر بھی کہیں موت آتی ہے (ويلك، القرآن يموت)۔ ظریف نے دوبارہ سادگی کے ساتھ جواب دیا کہ اے امیر المؤمنین ہر مخلوق مرے گی (یا أمير المؤمنين، كل مخلوق يموت)۔

اس کے بعد ظریف نے مزید کہا کہ مجھے بڑی فکر اس بات کی ہے کہ قرآن کی موت پر مسلمانوں کی تراویح کا کیا ہوگا۔ خلیفہ واثق اس کو سن کر بے اختیار ہنس پڑا۔ اس نے کہا کہ ٹھہر، خدا تجھے ہلاک کرے (قاتلك الله، أمسك) الطبقات السنية في تراجم الحنفية، صفحہ 90۔ تاہم یہ لطیفہ خلیفہ واثق پر بہت اثر انداز ہوا۔ وہ سابق خلفا کی طرح اس معاملہ میں زیادہ شدید نہ تھا۔ اب اس کا باقی ماندہ جوش بھی ختم ہو گیا اور خلیفہ کے ٹھنڈا پڑنے سے سارے ملک میں یہ مسئلہ ختم ہو گیا۔ کبھی ایک لطیفہ سے وہ کام ہو جاتا ہے، جو دلائل سے نہ ہو سکا تھا۔ دنیا میں جو چیز سب سے زیادہ ہے، وہ ہے دوسرے کے خلاف سوچنا، اور دنیا میں جو چیز سب سے کم ہے، وہ ہے اپنے خلاف سوچنا۔ دوسرے کے خلاف رائے زنی کرنے کے لیے ہر آدمی ذہانت کی چوٹی پر نظر آتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس الفاظ کا اتنا بڑا بھنڈار ہے جو کبھی ختم نہ ہو۔ مگر جب معاملہ اپنے خلاف سوچنے کا ہو تو وہی آدمی ایسا بن جاتا ہے جیسے کہ اس کے اندر کسی بات کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ جو بات اپنے خلاف ہو، جس میں خود اپنی شخصیت زد میں آرہی ہو،

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page