3 ستمبر 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱
کے ہاتھ بک نہیں سکتے تھے‘‘۔ میں نے کہا کہ ’’سو بار‘‘، غلطی کرنا خود بھی بکنے ہی کی ایک صورت ہے۔ یہ خود اپنے ہاتھ بکنا ہے، یہ اپنے نفس کے ہاتھ فروخت ہونا ہے۔
جب بھی آدمی کوئی غلط بات کہتا ہے یا کوئی غلط اقدام کرتا ہے تو بہت جلد مختلف طریقوں سے اس کی غلطی اس پر واضح ہو جاتی ہے۔ اگر آدمی اپنے نفس کے ہاتھ بکا ہوا نہ ہو تو وہ اپنی غلطی کا علیٰ الاعلان اعتراف کرے گا۔ حتیٰ کہ اگر وہ قائد ہوتے ہوئے بار بار غلطی کیے چلا جا رہا ہے تو وہ اعلان کر دے گا کہ میں قیادت کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میری فہم و بصیرت اس سے کم ہے کہ میں قوم کی قیادت کر سکوں۔ اس لیے میں قیادت کے کام سے مستعفی ہو رہا ہوں۔
کوئی شخص غلطی پر غلطی کرے اور پھر بھی قیادت کے میدان سے واپس نہ ہو تو یہ واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے اوپر اس کا نفس چھایا ہوا ہے۔ ساکھ اور عزت نفس کا سوال اس کو علیٰ الاعلان اپنی قیادت کی نااہلی کا اعتراف کرنے سے روکے ہوئے ہے۔ اس سے زیادہ بکا ہوا انسان اور کون ہو سکتا ہے، جو پرجوش الفاظ اور حقیقت واقعہ میں فرق نہ کر سکے۔
3 ستمبر 1985
غزوہ طائف (8ھ) کی روایات میں سے ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : ثُمَّ سَلَکَ فِي طَرِيقِ يُقَالُ لَهَا الضَّيِّقَةُ، فَلَمَّا تَوَجَّهَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْ اسْمِهَا، فَقَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الطَّرِيقِ؟ فَقِيلَ لَهُ الضَّيِّقَةُ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ الْيُسْرَى (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 482)۔ یعنی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستے پر چلے جس کو ’’تنگ‘‘ کہا جاتا تھا۔ جب آپ اس راستہ پر آئے تو آپ نے اس کے نام کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے کہا کہ اس راستہ کا نام کیا ہے۔ کہا گیا کہ ’’تنگ‘‘ آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ یہ آسان ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن کا مزاج مثبت مزاج ہونا چاہیے۔ مومن تاریکی میں روشنی کو دیکھتا ہے، وہ ڈس ایڈوانٹج میں ایڈوانٹج کو دریافت کرتا ہے۔ وہ مشکل کو آسانی کے روپ میں ڈھال دیتا ہے۔ جس چیز کو عام لوگ الضَّیْقَة کہتے ہیں وہ مومن کے ذہن میں آ کر الْیُسْرَی بن جاتی ہے۔ غالبًا