5 ستمبر 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲
یہی وہ چیز ہے، جس کو ٹائن بی نے برتر حل (superior solution) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ ابو سعید خدری ﷺ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ الله (جامع الترمذی، حدیث نمبر 1955) ۔ یعنی جو شخص انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتا۔
احسان کیے جانے پر احسان مند ہونا اور محسن کا شکر ادا کرنا ایک مزاج اور قلبی کیفیت کی بات ہے۔ ایک شخص کے اندر یہ مزاج حقیقی معنوں میں پیدا ہو جائے تو وہ دونوں معاملات میں شکر ادا کرنے لگے گا۔ جو شخص بندوں کے سلوک پر ان کا شکر گزار ہو وہ خدا کی نعمتوں پر بھی ضرور اس کا شکر گزار ہوگا۔ اسی طرح جب ایک شخص خدا کی نعمتوں کا حقیقی معنوں میں شکر گزار ہو جائے تو بندوں کے سلوک پر بھی وہ ان کا شکر ادا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
5 ستمبر 1985
ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوْفًا فَكَافِئُوْهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوْنَهُ، فَادْعُوْا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوْهُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 1672) ۔ یعنی کوئی شخص تمہارے اوپر احسان کرے تو اس کا بدلہ دو۔ اور اگر تمہارے پاس بدلہ پورا کرنے والی کوئی چیز نہ ہو تو محسن کے لیے دعا کرو۔ اور اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک تم کو خیال ہو کہ تم نے بدلہ پورا کر دیا۔
بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو دے۔ اگر اس کے پاس کوئی مادی چیز دینے کے لیے نہیں ہے تو وہ اس کے حق میں دعائے خیر کا ہدیہ پیش کرے ۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ سماج میں لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں۔ اور اگر لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے دعا کرنے کا مزاج پیدا ہو جائے تو ایسے سماج میں یقیناً خیر خواہی کا جذبہ پرورش پائے گا۔ کیوں کہ کسی کے حق میں سچی دعا اس کے بغیر نہیں نکل سکتی کہ اس کے لیے دعا گو کے دل میں سچی خیر خواہی کی کیفیت موجود ہو۔