Al-Risala · May 2021 · page 28

18 ستمبر 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۲۸

وائسرائے کا ایک سفارتی وفد کل شام یہاں پہنچا، ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ پارٹیکل ہیں، وہ پوری کائنات کے مجموعی پارٹیکل سے بھی زیادہ ہیں۔ انسانی دماغ کی استعداد بے پناہ ہے، مگر کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اب تک اپنے دماغ کو دس فی صد سے زیادہ استعمال نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے لیے ناکافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے لیے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا درکار ہے۔ جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی لیے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری درو غضب ، ماہِ تمام کی حیثیت، برکت کے ساتھ یہ ہیں کہ وہ اس طرح ظہور میں آسکیں۔

اناتول فرانس (Anatole France, 1844-1924) کا قول ہے کہ یہ آدمی کی فطرت ہے کہ وہ دانش مندانہ طور پر سوچتا ہے، مگر بیوقوفی کے ساتھ عمل کرتا ہے : یہ بات بذاتِ خود صحیح ہے۔ مگر اس کی وجہ انسانی فطرت نہیں، بلکہ انسانی عادت ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ معاملات میں دانش مندانہ طور پر سوچ سکے۔ مگر عمل کرتے وقت وہ بے وقوف بن جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ سوچ کے وقت تو غیر جانب دار رہتا ہے۔ مگر عمل کے وقت اپنی غیر جانب داری کو باقی نہیں رکھ پاتا۔ صحیح عمل اکثر اپنی ذات کی نفی پر ہوتا ہے ۔ آدمی اپنی ذات کی نفی پر راضی نہیں ہوتا، اس لیے وہ صحیح عمل بھی نہیں کرتا۔ اجتماع زندگی میں کوئی روح افزا چیز اتنی قیمتی نہیں ہوتی جتنا باشعور انسان کسی مشن کے ساتھ اجتماعی زندگی میں وہ انسان بہت قیمتی ہوتا ہے جو بلاشرط کسی مشن کا ساتھ دے۔ جو ساتھ دینے کے بعد مسائل کا جنگل نہ کھڑا کرے۔ صحابہ کرام نے تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب برپا کیا۔ ان کی تحریکی صفات کو اگر ایک لفظ میں بتانا ہو تو کہا جا سکتا ہے — وہ بے مسئلہ لوگ (no-problem person ) تھے۔ وہ اختلاف کو بھول کر مشن سے وابستہ رہتے تھے۔ وہ ذاتی شکایت کو نظر انداز کر کے قیادت کے حکم کی پابندی کرتے تھے۔ وہ انفرادی احساسات کو کچل کر اجتماعی تقاضوں کو پورا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page