Al-Risala · May 2021 · page 29

18 ستمبر 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹

کہ اس کے اندر کچھ حقائق کو اجاگر کیا گیا ہے، ان کا مطالعہ کیاجائے کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بے مسئلہ انسان ہوں، وہی دنیا کا مسئلہ حل کرتے ہیں ۔ جو لوگ خود مسائل میں مبتلا ہو جائیں ، وہ صرف دنیا کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں ، وہ کسی بھی درجے میں دنیا کے مسائل کو کم نہیں کرتے۔

شو کا تعصب اتنا اہم اس لیے کرتا ہے مظاہرہ کو دیکھ کے میں کہ میں نہ اُس سنسگال ٴٴ ان ال اور کریغ شھر کی تعمیرات اور اس تمدنی مظاہر کو دیکھ کر میری زبان سے نکلا: ” انسان کے بغیر یہ تمدن نہیں ، اسی طرح خدا کے بغیر یہ کائنات نہیں ۔ “ (1747-1688) تان شاہ افشار (1726 - 1747 تک اس کا شاہی دور)

نادر شاہ افشار (1747-1688) ایران کا بادشاہ تھا۔ وہ 1736 سے 1747 تک ایران کا بادشاہ رہا۔ ایک مرتبہ اس کو یہ شبہ ہوا کہ اس کا لڑکا یہ سازش کر رہا ہے کہ وہ باپ کو ہٹا کر خود تخت پر بیٹھ جائے۔ نادر شاہ نے اپنے جوان لڑکے کو گرفتار کیا اور اس کی آنکھیں نکال کر اس کو اندھا کر دیا۔ مگر نادر شاہ کی یہ بے رحمی اس کو اقتدار پر باقی رکھنے میں معاون نہ ہوسکی۔ جلد ہی اس کی فوج میں اس کے مخالفین پیدا ہو گئے، اور نادر شاہ خوداپنے فوجیوں کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا۔ اس طرح کے بے شمار واقعات تاریخ میں موجود ہیں۔ مگر کوئی ان سے سبق نہیں لیتا۔ ہر آدمی اپنے دائرے میں دوبارہ وہی کرتا ہے، جو نادر شاہ نے اپنے دائرے میں کیا تھا۔ ایک صاحب نے الرسالہ کے مشن سے پورا اتفاق کیا۔ میں نے کہا کہ جب آپ کو الرسالہ سے اتفاق ہے تو اس کی ایجنسی لے کر اس کو پھیلائیے۔ ۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تو میں صرف پڑھتا ہوں ۔ آئندہ ایسا بھی کروں گا کہ ایجنسی لے کر اس کو دوسروں تک پہنچاؤں ۔ میں نے کہا کہ کرنے کا کام آج کیا جاتا ہے، کل نہیں کیا جاتا۔ جس شخص نے معاملے کو کل میں ایک حد تک درست رہتا۔ اس نے یہ بات کی کہ "یہی بات ہے"۔

(tomorrow) کے خانے میں ڈالا، اس نے معاملہ کو نہیں کے خانے میں ڈال دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page