18 ستمبر 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۳۰
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6412)۔ یعنی عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: دو نعمتیں ہیں جن میں انسانوں میں سے بہت سے لوگ دھوکا کھاتے ہیں — تندرستی اور فرصت۔
یعنی آدمی ایک کام کو کرنے کا کام سمجھتا ہے۔ مگر وہ سوچتا رہتا ہے کہ جب تندرستی ہوگی تو کرلوں گا یا جب فرصت ہوگی کرلوں گا۔ حالاں کہ یہ زبر دست بھول ہے۔ جو آدمی عذر کے فریب میں رہے وہ کبھی کوئی کام نہیں کر سکتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ عذر کو نظر انداز کر کے کام کیا جائے۔ ایک انگریزی مقولہ اس حدیث کی بہترین تشریح ہے۔ وہ مقولہ یہ ہے کہ اگر تمھارے پاس ایک اچھا عذر ہے تب بھی اس کو استعمال نہ کرو:
If you have a good excuse, don't use it. 27 ستمبر 1985 مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں بنی اسرائیل کا جو حال تھا، وہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان اب ایک مردہ قوم بن چکے ہیں، وہ کسی گہرے تعمیری کام کا حامل بننے کی طاقت نہیں رکھتے۔
بنی اسرائیل کا یہی حال ہو گیا تھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ان کو صحرائے سینا میں لے گئے۔ جب ان کی ابتدائی نسل ختم ہوگئی اور نئی نسل صحرا کے ماحول میں پرورش پا کر تیار ہوئی تو اسی نے دوبارہ کام کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہندوستان مسلمانوں کا ’’صحرائے سینا‘‘ ہے۔ ہندوستان وہ مقام ہے جہاں وہ عمل جاری ہے، جو بنی اسرائیل کے ساتھ صحرائے سینا میں انجام پایا تھا۔ اس بنا پر مجھے صرف ہندوستان سے یہ امید معلوم ہوتی ہے کہ آئندہ کسی وقت یہاں کے مسلمان کسی زندہ اسلامی دعوت کے علم بردار بن سکیں۔ ہندوستان میں بہت بڑے پیمانہ پر یہ عمل جاری ہے کہ