Al-Risala · June 2021 · page 25

Ignore the problem, avail the opportunities.

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۲۵

Ignore the problem, avail the opportunities.

پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کا یہ طریقہ ایک انتہائی حکیمانہ طریقہ تھا۔ اس کی طرف رہنمائی پیغمبر اسلام کو خود قرآن کی ابتدائی آیتوں میں ان الفاظ میں دی گئی: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً (94:5-6)۔ یعنی ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اس طرح پیغمبر اسلام کو بتایا گیا کہ اس دنیا میں کوئی مسئلہ کبھی گلی معنوں میں مسئلہ نہیں ہوتا، بلکہ ہر مسئلہ کے ساتھ ہمیشہ مواقع موجود رہتے ہیں۔ اس لیے آدمی کو یہ حکمت اختیار کرنا چاہیے کہ وہ مسائل کو نظر انداز کرے اور مواقع کو استعمال کرے۔ پیغمبر اسلام کے لیے یہ طریقہ ایک حکیمانہ آغاز کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آج جو ممکن ہے، اُس سے اپنے عمل کا آغاز کرو۔ اس طرح کل وہ چیز ممکن ہو جائے گی جو بظاہر آج ممکن نظر نہیں آتی۔

پیغمبر اسلام کا مشن توحید (oneness of God) کا قیام تھا۔ اس لحاظ سے آپ کے لیے اُس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مکہ کے مقدس عبادتی مرکز کعبہ میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ یہ عرب کے مختلف قبائل کے بت تھے۔ اور مکہ کے سرداروں نے ان بتوں کو کعبہ میں اس لیے رکھا تھا تا کہ وہ مکہ کو مرکزی مقام کا درجہ دے سکیں۔ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت کا ہونا ایک پرابلم تھا، مگر اسی کے ساتھ اُس میں ایک موقع (opportunity) بھی چھپی ہوئی تھی۔ ان بتوں کی وجہ سے ایسا ہوتا تھا کہ مکہ کے لوگ اور مکہ کے باہر کے لوگ وہاں ہر روز جمع ہوتے تھے۔ اس طرح کعبہ لوگوں کے لیے اجتماع کا ایک فطری مقام بن گیا تھا۔ پیغمبر اسلام نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کیا، اور ان بتوں کی وجہ سے وہاں لوگوں کے اجتماع کو ایک موقع کے طور پر استعمال کیا۔ اب آپ نے یہ کیا کہ آپ روزانہ وہاں جاتے اور لوگوں سے ملاقات کرتے اور ان کو قرآن کی آیتیں سناتے۔

قدیم مکہ میں پیغمبر اسلام نے دعوت کا جو مذکورہ طریقہ اختیار کیا، وہ پرابلم سے خالی نہ تھا۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ النجم اتری تو حسب معمول آپ نے یہ کیا کہ کعبہ کے اجتماع میں جا کر لوگوں کو

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page