Ignore the problem, avail the opportunities.
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶
اُسے پڑھ کر سنایا۔ اس سورہ میں عرب کے بڑے بڑے بتوں کو بے حقیقت بتاتے ہوئے یہ الفاظ تھے : أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ. وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى (53:19-20)۔ یعنی بھلا تم نے لات اور عزّیٰ پر غور کیا ہے ۔ اور تیسرے ایک اور منات پر۔
اس آیت میں لات ، عزّیٰ اور منات کے نام آئے ہیں۔ یہ تینوں بت قدیم عرب کے بڑے بڑے بت تھے۔ قدیم عربوں کا یہ طریقہ تھا کہ جب کسی مجلس میں ان بتوں کا نام آتا تو وہ اُن کے اعتراف کے لیے کچھ تعظیمی الفاظ بولتے ۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ جب پیغمبرِ اسلام نے قرآن پڑھتے ہوئے لات و عزّیٰ اور منات کے نام لیے تو وہاں کے مشرک حاضرین نے اپنے رواج کے مطابق ، بلند آواز سے کہا: تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى. وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجَىٰ پیغمبر اسلام کی آواز میں حاضرین کی مذکورہ آواز مل گئی۔ انہوں نے سمجھا کہ خود رسول اللہ نے یہ الفاظ کہے ہیں۔ یہ خبر نہایت تیزی سے پھیل گئی ، یہاں تک کہ یہ خبر حبش تک پھیل گئی ۔ بہت سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ پیغمبرِ اسلام نے مشرک عربوں کے اس مطالبے کو مان لیا ہے کہ اُن کے جو بت ہیں وہ بھی خدا کی خدائی میں شریک ہیں۔ حالاں کہ یہ صرف ایک غلط فہمی تھی ، نہ کہ کوئی حقیقی واقعہ۔ اس طرح مکہ میں پیغمبرِ اسلام لوگوں کو مسلسل عقیدۂ توحید کی طرف بلاتے رہے۔ اس مقصد کے لیے وہ لوگوں کو خطاب بھی کرتے اور انفرادی طور پر ان سے مل کر اُنہیں اپنا پیغام پہنچاتے رہے۔ اس طرح ایک ایک کرکے لوگ پیغمبرِ اسلام کے دین میں داخل ہوتے رہے۔ مثلاً حضرت خدیجہ ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر ، حضرت عثمان، وغیرہ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ لوگ اپنے مذہبی عقیدے کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ چنانچہ مکہ میں پیغمبرِ اسلام کی مخالفت شروع ہو گئی۔ قریش ہر تدبیر سے یہ کوشش کرنے لگے کہ آپ کا توحید کا مشن ختم ہو جائے۔ اس مخالفت کا سبب کسی بھی درجے میں سیاسی نہ تھا ، وہ صرف اعتقادی حساسیت کی بنا پر تھا۔ اس مخالفت کا سبب صرف اعتقادی اختلاف تھا ، نہ کہ کوئی سیاسی خطرہ۔
پیغمبرِ اسلام کے اس ابتدائی دور میں آپ کی بیوی خدیجہ اور آپ کے چچا ابو طالب آپ کے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues