Al-Risala · June 2021 · page 27

Ignore the problem, avail the opportunities.

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۲۷

لیے گویا سپورٹ سسٹم بنے ہوئے تھے۔ اعلانِ نبوت کے دسویں سال ان دونوں کا انتقال ہو گیا۔ قدیم قبائلی رواج کے مطابق، اب آپ کو ضرورت تھی کہ آپ کسی اور کو تلاش کریں، جو آپ کو اپنی پناہ میں لے لے۔ تا کہ آپ اپنا مشن بدستور جاری رکھ سکیں۔

پناہ کے حصول کے لیے پہلے آپ نے مکہ میں کوشش کی۔ کعبہ کی زیارت کے لیے جو قبائلی سردار مکہ آتے تھے، اُن سے اس مقصد کے لیے ملاقاتیں کیں۔ مگر اُن میں سے کوئی شخص تیار نہیں ہوا۔ آخر کار آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ مکہ سے 75 کلومیٹر دور واقع شہر طائف جائیں۔ اور وہاں کے سرداروں سے پناہ طلب کریں۔ عرب رواج کے مطابق یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ مگر طائف کے سردار جو خود بھی بتوں کے پرستار تھے، وہ توحید کے پیغمبر کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ بلکہ انہوں نے اپنے شہر کے لڑکوں کو اکسایا کہ وہ آپ کو پتھر مار کر شہر کے باہر کر دیں۔ آپ طائف سے باہر ایک باغ میں رات گزارنے کے لیے پناہ لیے ہوئے تھے۔ روایت کے مطابق، اُس وقت، خدا نے پہاڑوں کا فرشتہ (ملک الجبال) کو آپ کے پاس بھیجا۔ ملک الجبال نے آپ سے کہا کہ طائف والوں نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا، اس کو خدا نے دیکھا۔ اب اگر آپ اجازت دیں تو میں طائف کے اطراف میں واقع پہاڑوں کو ایک دوسرے میں ملا دوں۔ تا کہ طائف کے لوگ اِس میں دب کر ختم ہو جائیں۔ مگر پیغمبر اسلام نے کہا کہ نہیں۔ طائف کی موجودہ نسل نے اگر چہ میری بات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ طائف کی اگلی نسلیں میری بات کو مانیں گی اور خدا کے راستے پر چلیں گی (بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ، لَا يُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231۔ پیغمبر اسلام طائف سے واپس ہو کر دوبارہ مکہ پہنچے تو قریش کا ظلم اور زیادہ بڑھ گیا۔ انہوں نے دار الندوہ میں مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو قتل کر دیں۔ اس فیصلے میں مکہ کے تمام قبائل شریک ہو گئے۔ اُس وقت مکہ اور اطرافِ مکہ میں تقریباً دو سو آدمی پیغمبر اسلام کے پیغام کو مان کر اُن کے ساتھی بن چکے تھے، مگر یہ تعداد قریش کے مقابلے میں آپ کی حمایت کے لیے ناکافی تھی۔ چنانچہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page