Al-Risala · June 2021 · page 36

مدینہ میں اسلام کا داخلہ

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۳۶

ہوں۔ اس کے مقابلے میں آپ مکمل طور پر مثبت نفسیات کے حامل ہوں۔ یہی واحد بنیاد ہے جس کے اوپر پیس فل ایکٹوزم کی سرگرمیاں جاری ہو سکتی ہیں۔ مدِ مقابل گروہ کے لیے آپ کے دل میں اگر مثبت جذبات نہ ہوں تو آپ کبھی اپنے پرامن مشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ عملاً یہ ہوتا ہے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے مقابلے میں پرامن طریق کار کی بنیاد پر ایک تحریک اٹھاتا ہے، لیکن فریق ثانی کی مفروضہ یا غیر مفروضہ زیادتیوں کا احساس فریق اوّل کے خلاف اس کے دل میں نفرت ڈال دیتا ہے۔ یہ نفرت دھیرے دھیرے تشدد کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور اگر تشدد کے ذریعہ مطلوب کامیابی مل رہی ہو تو فریق اوّل کے دل میں فریق ثانی کے خلاف نفرت کا طوفان اس کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ وہ اس کے خلاف ہر ممکن تخریبی کارروائی شروع کردے۔ یہاں تک کہ اس کو مٹانے کے لیے اُس قسم کی بھیانک کارروائی کرنے لگے جس کو موجودہ زمانے میں خود کش بمباری (suicide bombing) کہتے ہیں۔

پیس فل ایکٹوزم کے سلسلے میں یہ بات غالباً پوری تاریخ میں صرف پیغمبر اسلام کی زندگی میں ملتی ہے۔ دوسرے مصلحین کی طرح ان کو بھی فریق ثانی کی طرف سے سخت قسم کی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ مگر آپ نے کبھی اُن کے خلاف نفرت کی زبان استعمال نہیں کی۔ اپنے ساتھیوں کو بھی آپ ہمیشہ نفرت کے احساس سے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ آپ کی زندگی میں اس طرح کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔

مثال کے طور پر مکہ میں پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کا ایک خاندان تھا، جس کو آل یاسر کہا جاتا تھا۔ یہ ایک کمزور خاندان تھا۔ چنانچہ آپ کے طاقت ور مخالفین نے انہیں مارنا پیٹنا شروع کیا اور کہا کہ پیغمبر کا ساتھ چھوڑ دو۔ پیغمبر اسلام نے اس منظر کو دیکھا تو آپ نے زیادتی کرنے والوں کے خلاف نفرت کا کوئی کلمہ نہیں کہا، بلکہ یہ کہا: صَبْرًا يَا آلَ يَاسِرٍ، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ (مستدرک الحاكم، حدیث نمبر 5646)۔ یعنی اے آل یاسر صبر کرو، کیوں کہ تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ جنت کو صبر کا انعام بتا کر آپ نے اپنے ساتھیوں کو اس کے لیے آمادہ کیا کہ وہ کسی بھی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page