مدینہ میں اسلام کا داخلہ
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۳۷
زیادتی پر مشتعل نہ ہوں ۔ وہ کسی بھی حال میں فریق ثانی کے خلاف اپنے دل میں منفی جذبات کی پرورش نہ کریں ۔
یہ پیغمبرِ اسلام کی پالیسی کا نہایت اہم پہلو تھا جو آپ نے خدا کی رہنمائی کے مطابق اختیار کی۔ یعنی مخالفوں کی ہر زیادتی پر صبر کرنا۔ قرآن میں اس سلسلے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ مثلاً نبیوں کی زبانی یہ کہا گیا ہے: وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا (14:12) ۔ یعنی ہم تمہاری ایذاؤں پر صرف صبر ہی کریں گے ۔
یہ صبر کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ فریق ثانی کی ظالمانہ کارروائی کے باوجود مثبت سوچ پر قائم رہنا، اپنے آپ کو اس سے بچانا کہ اپنے ذہن میں فریق ثانی کی منفی تصویر بن جائے۔ کیوں کہ فریق اول کے دل میں اگر فریق ثانی کی منفی تصویر بن جائے تو فریق اول کبھی فریق ثانی کے ساتھ پرامن طریق کار کے اصول پر قائم نہیں رہ سکتا۔ صبر کا اصول فریق اول کو اس سے بچاتا ہے کہ اس کا ذہن فریق ثانی کے بارے میں غیر معتدل ہو جائے۔ پرامن طریق کار (peaceful activism) دراصل معتدل ذہن کا اظہار ہے۔ غیر معتدل یا منفی ذہن کبھی پرامن طریق کار کو کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا۔ صبر کا یہ اصول دراصل اسی اعتدال یا مثبت مزاج کی برقراری کی ایک یقینی گارنٹی ہے۔
پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کے ساتھ مخاطب گروہ کی طرف سے مسلسل زیادتیاں کی گئیں، لیکن آپ ہمیشہ پابندی کے ساتھ صبر کے اصول پر قائم رہے، اور اپنے ساتھیوں کو اسی کی تلقین کی۔ آپ کی مجلسوں میں کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ مخالفین کے ظلم کا چرچا کیا جائے ۔ آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ مخالفین کے ظلم کے حوالے سے ان کے خلاف بددعائیں کریں۔ اس کے برعکس، آپ ہمیشہ ظلم کرنے والوں کے خلاف اچھی دعا کرتے تھے۔ آپ نے مخالفوں کو کبھی کافریا دشمن نہیں کہا، بلکہ ہمیشہ ان کے بارے میں انسان کا لفظ بولتے رہے۔ اس معاملے کی ایک انتہائی مثال یہ ہے کہ ایک بار آپ کے مخالفوں نے پتھر مار کر آپ کو زخمی کر دیا، اُس وقت آپ کی زبان
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues