مدینہ میں اسلام کا داخلہ
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۳۸
سے یہ الفاظ نکلے : اللَّهُمَّ اھْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1375)۔ خدایا ! میری قوم کو ہدایت دے، کیوں کہ وہ جانتے نہیں۔
یک طرفہ صبر اور خیر خواہی کا طریقہ جو آپ نے عرب میں اختیار فرمایا، وہ اسی لیے تھا کہ فریق ثانی کے بارے میں آپ، یا آپ کے ساتھیوں کے دل میں شکایت اور نفرت کی نفسیات پیدا نہ ہونے پائے۔ کیوں کہ جو ذہن شکایت اور نفرت لیے ہوئے ہو، وہ اصلاح کا کام درست طور پر نہیں کر سکتا۔ خاموش تبلیغ ایسی حالت میں پیغمبر اسلام کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ ایک یہ کہ لوگوں کو کھلے طور پر توحید کی طرف بلائیں اور کھلے طور پر شرک کو غلط قرار دیں۔ آپ کے لیے دوسرا انتخاب یہ تھا کہ آپ خاموشی کے ساتھ انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے اپنا مشن شروع کریں اور حالات کا اندازہ کرتے ہوئے تدریجی طور پر آگے بڑھیں۔ پہلے طریقے میں متشددانہ ٹکراؤ کا اندیشہ تھا، اس لیے آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کے بجائے آپ نے دوسرے طریقے کو اختیار کیا، جو واضح طور پر امن کا طریقہ تھا۔ جس میں یہ ممکن تھا کہ لوگوں سے ٹکراؤ کی صورت حال پیدا کیے بغیر اپنا کام جاری رکھا جا سکے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں یہ پیس فل ایکٹوزم کی پہلی مثال تھی۔ اسی طرح آپ نے اپنی پوری تحریک امن کے اصول پر چلائی۔ اسی حقیقت کو ایک حدیث میں آپ نے اس طرح فرمایا: لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ العَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ العَافِيَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2965)۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو کسی دشمن کا سامنا پیش آئے تو ایسا نہ کرو کہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہو کر اس سے لڑ جاؤ، بلکہ امن کے اصولوں کو اختیار کرتے ہوئے دشمنی کے مسئلے کو حل کرو: Solve the problem of enmity by following the peaceful method. اس طرح آپ پُرا من انداز میں کام کرتے رہے یہاں تک کہ دھیرے دھیرے 83 آدمی آپ کے مشن میں شامل ہو گئے ۔ اُس وقت آپ کے ایک سینئر ساتھی ابو بکر صدیق بن ابی قحافہ نے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues