مدینہ میں اسلام کا داخلہ
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۳۹
کہا کہ اب ہم کو اعلان کے ساتھ کھلے عام اپنا کام کرنا چاہیے۔ پیغمبرِ اسلام کہا: اے ابوبکر! ابھی ہم تھوڑے ہیں (يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّا قَلِيلٌ) لیکن ابوبکر صدیق نے اس کے باوجود ایسا کیا کہ وہ کعبہ میں گئے اور وہاں بلند آواز سے اعلان کر کے لوگوں کو بتایا کہ میں پوری طرح محمد کا ساتھی بن گیا ہوں۔ یہ سُن کر مخالفین کی ایک جماعت دوڑ کر آئی۔ وہ آپ کو مارنے نے پیٹنے لگی۔ انہوں نے آپ کو اتنا زیادہ مارا کہ آپ زخمی ہو کر گر پڑے۔ مارنے والوں نے ابوبکر صدیق کو صرف اُس وقت چھوڑا جب کہ انہوں نے سمجھا کہ اب ان کا خاتمہ ہو چکا ہے (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 439)۔ عمر بن الخطاب آپ کے ساتھیوں میں نہایت طاقتور شخص تھے۔ انہوں نے بھی پیغمبرِ اسلام سے کہا کہ ہم حق پر ہیں، پھر ہم کیوں خاموش رہیں۔ ہم اعلان کے ساتھ کھلے طور پر اپنا کام کریں گے۔ یہ سُن کر پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: يَا عُمَرُ إِنَّا قَلِيلٌ قَدْ رَأَيْتَ مَا لَقِينَا (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 441)۔ یعنی اے عمر! ہم تھوڑے ہیں، ابو بکر کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ تم نے دیکھ لیا۔ دھیرے دھیرے پیغمبرِ اسلام کا مشن پھیلنے لگا۔ آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ پھر وہ وقت آیا جب کہ مدینہ سے 73 آدمی آ کر آپ سے ملے، اور بتایا کہ ہم آپ کے مشن میں آپ کے ساتھ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب آپ مکہ والوں کی زیادتی کو اور زیادہ برداشت نہ کیجیے۔ ہم کو اجازت دیجیے کہ ہم مکہ والوں کے خلاف جہاد کریں۔ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: اصْبِرُوا فَإِنِّي لَمْ أُومَرْ بِالْقِتَالِ (المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، جلد 1، صفحہ 199)۔ یعنی تم لوگ صبر کرو، کیوں کہ مجھے لڑائی کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔
پیغمبرِ اسلام کی یہ روش بتاتی ہے کہ وہ ہمیشہ عملی نتیجے کو سامنے رکھتے تھے۔ اُن کا یہ ماننا تھا کہ اقدام کو مثبت نتیجے کا حامل ہونا چاہیے، ایسا اقدام جو کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہو، وہ کوئی اقدام نہیں۔ وہ نتیجہ خیز اقدام (result-oriented action) کے حامی تھے۔ پیغمبرِ اسلام کی لائف بتاتی ہے کہ ان کی اسکیم میں اِس قسم کی چیز کے لیے کوئی جگہ نہ تھی، جس کو موجودہ زمانے میں خود کُش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے۔ خودکُش بمباری
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues