Al-Risala · June 2021 · page 47

مدینہ میں اسلام کا داخلہ

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۴۷

پیغمبر اسلام کے زمانے کے انکار کرنے والے مراد ہیں۔ قرآنی اصطلاح کے مطابق، ایسا نہیں ہے کہ لفظ کا فرا بد تک کے لیے ہر غیر مسلم گروہ کے لیے بولا جائے گا، یعنی کا فرکسی قوم کا یا نسل کا دائمی لقب نہیں ہے۔ چنانچہ اہل اسلام نے بعد کے زمانہ کے لوگوں کے لیے جو الفاظ استعمال کیے وہ کافریا کفارہ تھے بلکہ یہ وہی الفاظ تھے جو کہ قومیں خود اپنے لیے استعمال کر رہی تھیں ۔ مثلاً ہنود، یہود، نصاری، مجوس، بودھ (بوذا) وغیرہ۔ اسلامی اصول کے مطابق کسی قوم کو اسی لفظ سے پکارا جائے گا جو لفظ اُس نے خود اپنے لیے اختیار کیا ہو۔

قرآن کے مطابق ، پیغمبروں نے جب اپنے زمانہ کے غیر مومن لوگوں کو پکارا تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اے کا فرو، بلکہ یہ کہا کہ اے میری قوم کے لوگو۔ چنانچہ قرآن میں پیغمبر کی زبان سے پچاس بار یہ الفاظ آئے ہیں: یَاقَوْمِ (اے میری قوم) ۔ اسی طرح قرآن میں پیغمبروں کے ہم زمانہ غیر مومنین کو اُن کی قوم کا نام دیا گیا ہے۔ مثلاً : قوم لوط ، قوم صالح ، قوم ہود، قوم نوح، وغیرہ۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک پیغمبر کو اُس کے مخالفین نے پتھر مارا اور ان کی پیشانی سے خون بہنے لگا، اُس وقت پیغمبر کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ( مسند احمد، حدیث نمبر 4057 ) ۔ اے میرے رب، میری قوم کو معاف کر دے کیوں کہ وہ لوگ نہیں جانتے۔

اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کا نظریہ دو قومی نظریہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک قومی نظریہ تھا۔ یعنی جو قومیت پیغمبر کی تھی وہی قومیت پیغمبر کے مخاطبین کی تھی۔ پیغمبر اور اُس کے مخاطبین کے درمیان جو فرق تھا، وہ قومیت کا فرق نہ تھا بلکہ عقیدہ اور مذہب کا فرق تھا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (109:6) ۔ یعنی تمہارے لیے تمہارا دین، اور میرے لیے میرا دین ۔ قرآن میں الا نسان (واحد) کا لفظ 65 بار آیا ہے، اور الناس (جمع) 240 بار آیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں کافر کا لفظ صرف پانچ بار قرآن میں آیا ہے اور اُس کی جمع الکفار، الکافرون اور الکافرین کے الفاظ 150 بار آئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملے میں قرآن کا تصور کیا ہے۔ قرآن کی نظر میں یہ زمین دار الانسان ہے، نہ کہ دارالحرب ( جنگ کا میدان )۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page