پیش لفظ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۰
They will find her, and through me! (The Story of an African Farm, by Olive Schreiner, Chapter جہاں آج میں بوڑھا اور کمزور ہو کر گر پڑا ہوں، دوسرے لوگ یہاں سے کھڑے ہوں گے۔ نو جوان اور تازہ دم۔ جو سیڑھیاں میں نے کاٹی ہیں، وہ اس سے چڑھیں گے۔ وہ کبھی نہ جانیں گے سیڑھیاں بنانے والے کا نام کیا تھا۔ مگر وہ ان سیڑھیوں پر چڑھتے رہیں گے اور بالآخر سچائی تک پہنچ جائیں۔
راقم الحروف کی پیدائش کی (تخمینی) تاریخ یکم جنوری ۱۹۲۵ء ہے۔ میرے والد فرید الدین خان مرحوم کا ۳۰ دسمبر ۱۹۲۹ء کو اس وقت انتقال ہو گیا جبکہ میری عمر صرف پانچ سال تھی۔ اس کے بعد میری پرورش اعظم گڑھ کے ایک روایتی مذہبی ماحول میں ہوئی ۔ میرے حالات کا تقاضا تھا کہ میں ہر چیز کو تجسس کی نگاہ سے دیکھوں ۔ سن شعور کو پہنچنے کے بعد جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ دین جو ”دورِ قدیم میں ایک ہزار سال تک انسانی افکار پر حکمراں تھا۔ دورِ جدید میں ہر لحاظ سے مغلوب ہو گیا، تو میرے اندر یہ جذبہ ابھرا کہ میں اس مسئلے کی تحقیق کروں ۔ میں نے باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا۔ مجھ کو بہت سے لوگ یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میری باقاعدہ تعلیم تمام تر صرف عربی مدرسوں میں ہوئی ہے ۔ عربی مدرسہ سے فراغت کے بعد میں نے بطور خود انگریزی سیکھی۔ بعد کے دور میں انگریزی کتابوں کا مسلسل مطالعہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے طرزِ تحریر پر جدید اسلوب غالب آ گیا۔ اس سے لوگوں کو شبہ ہونے لگا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی تعلیمی اصطلاح میں میں تمام تر ایک مولوی‘‘ ہوں۔
میرے اس تعلیمی اور فکری پس منظر نے اسلام کا کم از کم روایتی علم مجھے دیا تھا۔ مگر ظاہر ہے کہ دور جدید کی نسبت سے اسلام کو سمجھنے کے لئے وہ ناکافی تھا۔ چنانچہ ۱۹۴۸ء میں میں نے ایک نیا فیصلہ کیا۔ ایک طرف میں نے جدید افکار کو براہ راست مآخذ سے جاننے کی کوشش کی ۔ دوسری طرف اسلام کو از سر نو سمجھنے کے لئے قرآن وحدیث اور اس سے متعلق علوم کو پڑھنا شروع کیا۔ میری زندگی کے ابتدائی ۲۵ سال اگر درسی تعلیم میں گزرے تھے ، تو اگلے ۲۵ سال اس تحقیقی مطالعہ میں صرف
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues