Al-Risala · August 2021 · page 11

پیش لفظ

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱

ہو گئے۔ آج جب کہ میری عمر پچاس سال ہو چکی ہے، میں اس کتاب کو پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں جو گو یا میری طویل تلاش کا جواب ہے۔ میں شاید نظریاتی چٹان کی سیڑھیاں کاٹ چکا تھا کہ میرے سامنے دوسرا پہاڑ آ کر کھڑا ہو گیا۔ اب ضرورت تھی کہ دریافت کردہ حقائق کی روشنی میں اسلام کی مہم کو عملی طور پر چلایا جائے۔

مگر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری طاقت ختم ہوگئی۔ ماضی کی شدید جدوجہد نے مجھے قبل از وقت بوڑھابنا دیا۔ ’’نظریاتی سیڑھیاں‘‘ کاٹنے میں میں نے اپنی عمر تمام کردی۔ اب ’’عملی سیڑھیاں‘‘ کس طرح کاٹوں۔ تاہم میرے اطمینان کے لئے یہ کافی ہے کہ میں نے سچائی کو کم ازکم فکری طور پر دریافت کر لیا ہے۔ اب شاید میں یہ کہتے ہوئے مر سکتا ہوں کہ ”میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں نہیں بنانی پڑیں گی۔ “ ستمبر ۱۹۷۵ء (”الاسلام‘‘ سے ماخوذ)

”اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آدمی یہاں اس طرح زندگی گزارے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرا بھی نگیٹیو تھاٹ نہ ہو۔ وہ دنیا سے اس طرح چلا جائے کہ اس کا مائنڈ پوری طرح پازیٹیو مائنڈ ہو۔ اس دنیا کی یہی میری آخری دریافت ہے۔ “ ”زندگی میرے لیے اس دن کا انتظار ہے جب کہ رب العالمين براہِ راست طور پر انسان کے سامنے ظاہر ہوگا اور میں خوشی اور حیرت کے آنسوؤں کے ساتھ اس کا استقبال کروں گا۔ “

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page