پیش لفظ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲
والد صاحب ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، دہلی میرے والد مولانا وحید الدین خاں مرحوم کی پیدائش یکم جنوری 1925ء اعظم گڑھ (مشرقی یوپی) کی تھی اور وہ چالیس سال قبل دہلی نظام الدین ویسٹ کالونی منتقل ہوئے۔ 96 سال میں بھی ان کا حافظہ بلا کا تھا۔ وہ تمام سوالات کا حاضر جوابی سے جواب دیتے لیکن جسمانی طور پر اٹھنا بیٹھنا دشوار ہو چکا تھا۔ انھیں بستی حضرت نظام الدین سے متصل پنج پیر اس قبرستان میں ہماری والدہ کے پاس دفن کیا گیا۔ دادی مرحومہ بھی وہاں آسودہ خواب ہیں۔
والد مرحوم کی قرآن پاک کی تفسیر تذکیر القرآن اور دیگر کتب بہت مقبول ہوئیں، لیکن سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت علم جدید کا چیلنج (جس کا نام بعد میں ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ رکھا گیا) کو حاصل ہوئی ۔ یہ 1966ء میں منظر عام پر آئی۔ جدید ذہن کے اسلام پر جو اعتراضات ہیں، اس کتاب میں ان کا سائنس اور نئے فلسفے کے حوالے سے مدلل جواب دیا گیا ہے۔ اس کتاب کو اصل شہرت اس وقت ملی جب میں نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا اور یہ بہت سی عرب یونیورسٹیوں میں پڑھائی جانے لگی۔ بعدازاں اس کا ترکی، فارسی، انڈونیشین اور دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا۔ والد مرحوم کا کسی سے اختلاف نہیں تھا۔ ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ہندو اور مسلمان دونوں لڑائی کرکے ساتھ نہیں رہ سکتے اور نہ ہی ترقی کر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں وہ آر ایس ایس کے لوگوں سے ملاقاتیں کرتے تھے۔ ہمارے لوگ اور سیاستدان جذباتی ہو کر سوچتے ہیں۔ انھوں نے کسی کے الزامات کا برا نہیں مانا اور نہ ہی جواب دیا۔ وہ صرف اپنی بات کرتے۔ وہ جسے صحیح سمجھتے تھے وہی کہتے اور بیان کرتے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جنھیں ہم اسلام کی دعوت اور پیغام دے رہے ہیں ان سے اچھے تعلقات استوار کریں، اگر کوئی مسئلہ ہے تو اسے فی الحال فراموش کر دیں۔ صبر کریں، کیوں کہ تناؤ کے ماحول میں دوسرا آپ کی بات کیسے سنے گا؟ والد مرحوم کا جاری کردہ مشہور زمانہ الرسالہ 1976ء سے اردو میں باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے، جب کہ اس کا ہندی اور انگریزی ایڈیشن بھی شائع ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues