Al-Risala · August 2021 · page 13

پیش لفظ

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳

والد صاحب، ایک با اصول مربی ڈاکٹر فریدہ خانم والد صاحب اپنی نوجوانی کے زمانے میں جماعت اسلامی کے افکار سے متاثر ہوئے، اور آزادی کے بعد 1947 میں جماعت اسلامی سے جڑ گئے۔ اعظم گڑھ میں جماعت اسلامی کے حلقہ میں بطور ایک رکن کام کرتے رہے۔ انھوں نے جس مستعدی اور انہماک اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ جماعت کے مقامی کام کو چلا یا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ضلع اعظم گڑھ کے افراد جماعت نے متفقہ طور پر والد صاحب کو ’’ناظم ضلع‘‘ منتخب کیا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے کل ہند امیر مولانا ابو اللیث ندوی، اصلاحی تھے۔ ان کو جب یہ معلوم ہوا کہ والد صاحب کو ناظم ضلع منتخب کیا گیا ہے تو انھوں نے کہا کہ ان کے اندر لکھنے کی اعلیٰ صلاحیت موجود ہے اس لئے زیادہ بہتر یہ ہے کہ انہیں جماعت اسلامی کے مرکزی شعبہ تصنیف و تالیف میں لے لیا جائے۔ چنانچہ ناظم ضلع منتخب ہونے کے فوراً بعد والد صاحب جماعت اسلامی کے مرکزی شعبہ تصنیف و تالیف سے وابستہ ہو کر 1956 میں تصنیفی کام کرنے کے لئے رام پور چلے گئے۔ اس کے بعد ہم سب لوگ رام پور آگئے۔ اس وقت میری عمر 5 سال تھی۔ ’’بازار نصر اللہ خاں‘‘ میں ہمارا کرایے کا ایک مکان تھا۔ یہاں ہم لوگ 6 سال تک مقیم رہے۔ اسی گھر میں 10 دسمبر 1959 کو ہمارے چھوٹے بھائی ’’ثانی اثنین خان‘‘ کی پیدائش ہوئی۔ بچیوں کا مدرسہ ’’رام پور‘‘ میں جماعت اسلامی کے زیر انتظام کھولا گیا تھا۔ مدرسہ کا کمپاؤنڈ کافی بڑا تھا، لیکن جس وقت ہم لوگوں کو داخل کیا گیا اس وقت وہاں صرف دو کمروں کی تعمیر ہوئی تھی ۔ طالبات بھی بہت کم تھیں۔ استانیوں کے نام یاد نہیں البتہ ہیڈ مسٹریس کو لوگ ’’آپَا‘‘ کہا کرتے تھے۔ میں اور میری بڑی بہن ’’ام السلام‘‘ ایک ہی کلاس میں پڑھتی تھیں۔ اس اسکول میں ہم لوگوں نے 5 ویں کلاس تک پڑھائی کی۔

سادہ زندگی اور اونچی سوچ (simple living and high thinking) کا اصول والد صاحب کی ذات پر مکمل طور پر apply ہوتا تھا۔ کھانا انتہائی سادہ کھاتے تھے۔ سال بھر گزر جاتے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page