پیش لفظ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۴
تھے مگر گوشت گھر میں نہیں آتا تھا۔ "طعام واحد" کے اصول کے تحت صرف ایک سبزی پکتی تھی۔ ایک بار والد صاحب ایک مہینے کے لیے اعظم گڑھ جا رہے تھے۔ گھر میں 2 ٹن بھنی ہوئی مکئی رکھ کر چلے گئے کہ یہی مہینہ بھر استعمال کرنا۔
والد صاحب انتہائی با اصول ہونے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا اعلیٰ سلیقہ بھی رکھتے تھے۔ جماعت اسلامی کے دفتر میں سب سے پہلے داخل ہوتے اور سب سے آخر میں وہاں سے نکلتے۔ مزید یہ کہ دوپہر کو بھی انٹرول نہیں کرتے تھے۔ جب کہ تمام اسٹاف دوپہر کو لنچ کے لیے اور آرام کرنے کے لیے وقت نکالتے تھے۔ اسی حسن کارکردگی کی وجہ سے وہ جماعت اسلامی میں بہت مقبول تھے۔ ان کے مضامین لوگ بہت شوق سے پڑھتے۔ ’’ماہنامہ زندگی‘‘ کا شمارہ جب لوگوں کو ملتا تو سب سے پہلے اس میں والد صاحب کا مضمون پڑھتے، اس وجہ سے ان کی سخت زندگی بھی لوگوں کو قابل تقلید نظر آتی۔ ہماری ایک پڑوسن راشدہ آپا، جو کہ اس وقت بچیوں کے مدرسے میں عربی کی ٹیچر تھیں، اکثر ہمارے یہاں آتیں۔ ایک بار انھوں نے کہا کہ ہم بھی ’’طعام واحد‘‘ اپنے گھر میں چلائیں گے۔ یہ اسلامی طریقہ بھی ہے اور بہت آسان بھی۔ انھوں نے شاید ایک ہی ہفتہ ایسا کیا۔ ان کے بھائی جوان کے ساتھ رہتے تھے، وہ طعام واحد سے پریشان ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ واحد کو نکالیے اب صرف طعام ہی طعام رہے گا۔
اسی طرح والد صاحب ہم تینوں بہنوں کو ہمیشہ سادہ کپڑا پہناتے۔ ایک بار ملیشیا (خاکی رنگ کا موٹا کھدر) کا ایک تھان لے آئے۔ اماں سے کہا کہ ان لوگوں کو چار چار جوڑا اس کا بنا دو۔ اماں کبھی ابا کی بات سے انکار نہیں کرتی تھیں۔ اس لیے پسند نہ کرتے ہوئے بھی انھوں نے وہ سارے کپڑے ہم لوگوں کے لیے سی دیے۔ اب ہم لوگ روز وہی کپڑا پہنتے۔ یہاں تک کہ محلے کی لڑکیاں ہم لوگوں کو دیکھ دیکھ کر ہنسنے لگیں کہ یہ ان کا یونیفارم ہے۔ ایک بار والد صاحب اعظم گڑھ گئے ہوئے تھے تو والدہ نے بازار سے پاپلین کی چھینٹ کا ایک ایک جوڑا ہم لوگوں کے لیے خرید کر منگوایا، ہم لوگ اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ جیسے عید کا چاند نکل آیا ہو۔ اس کپڑے کی پرنٹ کا نقش ابھی تک دماغ میں محفوظ ہے۔
ہم لوگوں کو کبھی کہیں گھومنے کے لیے نہیں جانے دیتے تھے۔ حتیٰ کہ 6 سالہ رامپور کے قیام کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues