پیش لفظ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷
نہیں کر سکتا کہ کل میرے بچے بڑے ہو کر دین کا کام کریں گے۔ بچوں کے سلسلے میں والد صاحب کا ایک خاص نظریہ تھا۔ وہ پدرانہ حقوق اور پدرانہ محبت میں فرق کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ بچوں کی زندگی کی تعمیر کے لیے انہیں وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو باپ ہونے کا تقاضا ہے۔ چنانچہ انھوں نے بچوں کی تعلیم اور ان کی حقیقی مادی ضرورت میں کبھی کمی نہیں کی۔ چنانچہ ایک بہن کو چھوڑ کر تمام بھائی بہنوں نے خدا کے فضل سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ البتہ پدرانہ محبت کے معاملے میں ان کا رویہ عام باپ سے مختلف تھا۔ عام باپ اپنے بیٹے کے حق میں ’’محبت برائے محبت‘‘ کے قائل ہوتے ہیں ۔ مگر اس معاملے میں والد صاحب کا نظریہ ’’محبت برائے دین‘‘ تھا۔ اولاد اگر دین کے راستے چلے تو وہ تمام محبت کرنے والوں سے زیادہ محبت کرنے والے تھے۔ مگر بے دین اولاد سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اگر چہ والد صاحب کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے ایسا نہیں ہوا کہ ان کی کوئی اولاد بے دین ہو جائے۔
والد صاحب نے جس طرح اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا اس کا جزئی اندازہ ایک واقعہ سے ہو سکتا ہے ایک بار ہومیو پیتھک ڈاکٹر وکیل احمد صاحب (رامپور) کی بیوی نے والد صاحب کو کہیں راستہ میں چلتے ہوئے دیکھا۔ اس کے بعد جب والدہ سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگیں کہ آج ہم نے وحید بھائی کو دیکھا، بالکل جیسے ’’مجنون‘‘۔ والد صاحب کو نہ وقت پر بال کٹوانا یا د رہتا، نہ کنگھی کرنا۔ ہر وقت سوچ میں غرق رہتے۔ کبھی وہ اپنے دماغ کو خدا کی یاد سے غافل نہیں ہونے دیتے تھے۔ جب کسی سے بات کرتے تو صرف دینی بات کرتے۔ کبھی میں نے فضول قسم کی باتیں کرتے ہوئے نہیں سنا۔ کافی وقت مطالعہ میں گزارتے۔ جو بھی کوئی والد صاحب کی صحبت میں آتا اس کو زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے۔
رامپور کے 6 سالہ قیام کے دوران ایک ملازم بھی نہیں رکھا گیا۔ ہم سب بھائی بہن اتنے بڑے نہیں تھے کہ کسی کام میں والدہ کا ہاتھ بٹا سکیں۔ والدہ سارا دن کام کرتی رہتی، دو پہر کو بھی آرام کرنے کا موقع نہ ملتا۔ ان کے میکہ میں صرف گھر کا کام کرنے کے لیے کئی ملازمین مستقل رہتے تھے۔ اس لیے انہیں محنت کا کام کرنے کی عادت نہیں تھی۔ ایک بار والدہ کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو انہوں نے چاہا کہ کوئی عورت کام کرنے کے لیے رکھ لی جائے مگر والد صاحب راضی نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues