پیش لفظ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۰
میں نے بھی باقاعدہ انگریزی تعلیم والد صاحب کی وجہ سے حاصل کی۔ میں نے پری یونیورسٹی کا امتحان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1970 میں پاس کیا تھا۔ فارسی میں میری ڈسٹنکشن آئی تھی لہٰذا میں نے دہلی کالج میں فارسی آنرز میں داخلہ لے لیا۔ والد صاحب نے جب یہ خبر سنی تو مجھے فوراً دوبارہ کالج واپس یہ کہہ کر بھیجا کہ فارسی پڑھ کر کیا کروگی، جا کر انگریزی میں داخلہ لو۔ گرمی کا دن تھا، دوپہر کا وقت تھا، اسی وقت میں کالج واپس گئی اور وہاں ایک ہیڈ کلرک، مبارک صاحب کی کوششوں سے مجھے انگلش آنرز میں داخلہ مل گیا۔ بعد میں میں نے ایم اے انگلش بھی دہلی یونیورسٹی سے کیا۔ آج میں سوچتی ہوں کہ اگر بروقت مجھے والد صاحب کی رہنمائی نہ ملی ہوتی تو میں مشن میں اپنا حصہ ادا نہیں کر سکتی تھی۔ والد صاحب جو مطالعہ کرتے تھے اس کو لوگوں سے share کرتے، ڈسکشن کرتے۔ اگر کوئی تنقید کرتا تو بہت ہی سنجیدگی سے اس کو سنتے، برا مانے بغیر۔ پھر اس پر غور کرتے کہ فلاں شخص نے ایسا کیوں کہا۔ مثال کے طور پر کسی نے ایک بار کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تاریخ سے نکال دیا جائے تو تاریخ میں کیا کمی رہ جائے گی۔ یہ واقعہ اس بات کو بہت اچھی طرح واضح کرتا ہے کہ تنقید ان کو مزید نئے اینگل سے سوچنے کا موقع فراہم کرتی تھی۔ اس طرح وہ غصہ ہوئے بغیر یہ سوچتے رہے کہ آخر اس شخص نے ایسا کیوں کہا اور ہم کس طرح تشفی بخش جواب اس کو دے سکتے ہیں۔ کئی کئی بار کسی پوائنٹ کو، کسی حدیث کو یا کسی آیت کو لے کر سالوں سوچتے رہتے تھے۔ اسی طرح مذکورہ بالا سوال پر بہت عرصہ تک سوچنے کے بعد انھوں نے اسلام: دورِ جدید کا خالق کتاب تیار کی۔ والد صاحب سے ہی میں نے یہ سمجھا کہ تنقید سے غصہ ہونے میں ہمارا اپنا نقصان ہے۔ تنقید ہمارے لیے ایک چیلنج کا کام کرتی ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی بات کا کوئی اینگل ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے، تنقید ہماری توجہ اس طرف مبذول کرتی ہے اور ہماری سوچ کے دائرہ میں وسعت آتی ہے۔ جو لوگ تنقید کو برداشت نہیں کرتے وہ ہمیشہ ایک ہی دائرہ میں گھومتے رہتے ہیں۔ ان کا انٹلیکچول ڈویلپمنٹ نہیں ہو پاتا ہے۔
ہم لوگ بھی 1964 میں لکھنؤ میں تھے۔ مئی 1964 میں جب سابق پرائم منسٹر جواہر لال نہرو کی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues