پیش لفظ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱
وفات ہوئی تو ان کی Ashes ندیوں میں بہائی گئی تھیں۔ گومتی ندی جو ندوہ کے کنارے بہتی تھی، وہاں بھی راکھ ہیلی کاپٹر سے بہائی گئی۔ اسی کے ساتھ گلاب کے پھولوں کی پنکھڑیاں بھی دریا میں ڈالی گئی تھیں۔ ابھی تک وہ منظر مجھے یاد ہے۔
یہ سارا دور والد صاحب کی تیاری کا دور تھا۔ وہاں ایک لائبریری تھی آچاریہ نریندر دیو لائبریری۔ حضرت گنج لکھنؤ میں واقع تھی۔ وہاں پر والد صاحب برابر اسٹڈی کے لیے جاتے تھے۔ ہر سبجکٹ پر کتابیں پڑھتے تھے۔ والد صاحب نے ایک بار کہا تھا کہ میں نے پامسٹری سے لے کر اسٹرانمی تک ہر سبجیکٹ کی study کی ہے۔
مولانا ندوہ میں 3 سال رہے۔ ندوہ چھوڑنے کے بعد پھر واپس اعظم گڑھ چلے گئے۔ جلد ہی جون 1967 میں مولانا سید اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کی دعوت پر 24 جون 1967 کو نئی دہلی آئے اور جمعیۃ علماء ہند کے ترجمان الجمعیۃ جمعہ ایڈیشن کے ایڈیٹر کے طور پر کام شروع کیا۔ کچھ دنوں کے بعد ہم لوگ بھی دلی آگئے اور یہاں سب بھائی بہن تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہو گئے۔ والد صاحب ڈسٹریکشن سے اتنا زیادہ دور رہتے تھے کہ وہ اپنے پاس کبھی پیسہ نہیں رکھتے تھے۔ اماں گھر کی باس تھیں۔ ہم سب لوگ مل کر گھر چلاتے تھے۔
پرفکشنسٹ اتنے زیادہ تھے کہ وہ اپنا کام کسی سے نہیں کراتے تھے۔ پروف ریڈنگ بھی خود ہی کرتے تھے۔ جمعیۃ علماء کی طرف سے ان کو اسسٹنٹ دیا گیا تھا مگر انھوں نے جلد ہی اسسٹنٹ کو رخصت کر دیا۔ الجمعیۃ کا جو زمانہ تھا اس میں والد صاحب نے سب سے زیادہ ملی تعمیر پر زور دیا۔ مسلمانوں کے اندر اصلاح کا جذبہ ابھارنا ان کے اندر قومی شعور پیدا کرنا، ملی زندگی کی تعمیر کے لیے کیا کرنا ہے، حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پیدا کرنا، زمانہ کو سمجھ کر اس کی قوتوں کو اپنی تعمیری جدوجہد کے لیے استعمال کرنا، ان سب پر زیادہ فوکس تھا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب کہ جگہ جگہ فسادات ہو رہے تھے، مسلمانوں کے جان و مال کا بہت زیادہ نقصان ہو رہا تھا۔ اس لیے والد صاحب نے اپنی تحریر و تقریر اور زبانی بات چیت کے ذریعہ لوگوں کو بہت زیادہ متوجہ کیا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ اعراض، حکمت اور پلاننگ کے ساتھ زندگی کے میدان میں قدم رکھا جائے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو اسلامی اصولوں پر چلنے سے حل نہ کی ہو سکتا ہو۔ حقیقی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues