پیش لفظ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۲
مثالوں سے لوگوں کے سامنے ان باتوں کو پیش کیا۔ الجمعیۃ اس زمانہ کا سب سے زیادہ مقبول ہفت روزہ بن گیا۔ بے شمار لوگوں نے ان اصولوں کے ذریعہ اپنی زندگی اور سماج کے مسائل کو حل کیا۔ لیکن الجمعیۃ کی مقبولیت کچھ لوگوں کو پسند نہیں آئی اور بلا کسی سبب الجمعیۃ کو اچانک بند کر دیا گیا۔ وقتی طور پر پریشانی ہوئی۔ مگر یہ بلیسنگ ان ڈسگائس کا معاملہ ثابت ہوا۔
الجمعیۃ بند ہونے کے بعد حالات اتنے خراب ہو گئے کہ والد صاحب نے پھر اعظم گڑھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن ہمارے بڑے بھائی ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں اس وقت جامعۃ الازہر، قاہرہ میں اپنی پڑھائی مکمل کر چکے تھے اور ان کو ایک جاب مل گیا تھا۔ انھوں نے خط لکھا کہ آپ لوگ بڑھیا نہ جائیں، میں اخراجات کا بندوبست کروں گا۔ انھوں نے نہ صرف گھر کے اخراجات کی ذمہ داری لی، بلکہ الرسالہ کا initial سرمایہ بھی دیا۔ اس طرح ہم لوگوں کی پڑھائی جاری رہی۔ اس دوران والد صاحب نے الاسلام لکھی۔ الاسلام کی طباعت کا کوئی انتظام نہیں ہوسکا۔ لہذاا کتاب مکمل ہونے کے بعد الماری میں رکھ دی گئی تھی۔ جب بھائی صاحب دلی آئے اور انھوں نے کتاب پڑھی تو وہ اس سے بہت متاثر ہوئے اور اس کو شائع ہونے کے لیے پریس میں دے دیا۔ اس کے انگریزی ترجمہ کے لیے بھی انھوں نے انگریزی کے ایک استاد سے بات کی اور 10 ہزار روپے اس کے ترجمہ کے لیے ان کو دیے۔ 50 سال پہلے دس ہزار روپے کی بہت قیمت تھی۔ لیکن انھوں نے اچھا ترجمہ نہیں کیا۔ لہذ اُس وقت وہ ترجمہ شائع نہ ہوسکا۔ کافی تاخیر سے اس کا انگریزی ترجمہ میں نے تیار کیا، جو اس عنوان The Vision of Islam کے ساتھ 2014 میں گڈ ورڈ بکس، نئی دہلی سے شائع ہوا۔
1976 میں والد صاحب نے بہت زیادہ غور وفکر اور مشورہ کے بعد الرسالہ نکالا۔ الرسالہ کا ٹائٹل بڑے بھائی ڈاکٹر ظفر الاسلام نے منتخب کیا تھا۔ ماہنامہ الرسالہ کا پہلا شمارہ اکتوبر 1976 میں شائع ہوا۔ الرسالہ کے مضامین مختصر ہوتے تھے، عام طور پر ایک ہی صفحہ پر مضمون ختم ہو جاتا تھا۔ یہ چیز لوگوں کو بہت پسند آئی۔ ایک صفحہ پڑھ کر کوئی حکمت کی بات مل جاتی تھی۔ لمبے لمبے مضامین کے بارے میں لوگوں کی سوچ عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ جب فرصت ملے گی تو پڑھیں گے۔ میں 1976 میں ایم اے کا امتحان دے چکی تھی ۔ جب کہ ثانی اثنین ابھی اسکول ہی میں پڑھ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues