پیش لفظ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳
رہے تھے ۔ لہٰذا دفتر کا کام میں نے سنبھالا۔ باقی کام ثانی اثنین کرتے، الرسالہ کو چھپوانا، پوسٹ کرنا وغیرہ۔ ابتدا میں کم آرڈر آتے تھے۔ کبھی کوئی بڑا آرڈر آتا تو ہم بہت خوش ہوتے۔ والد صاحب مستقل طور پر لکھنے پڑھنے میں مصروف رہتے تھے۔
الجمعیۃ کیے زمانہ میں والد صاحب مسلمانوں کے ملی مسائل پر کافی لکھتے تھے۔ وہ پلیٹ فارم ہی ملی مسائل کا تھا۔ لیکن الرسالہ کے نکلنے کے بعد بالکل آزادانہ طریقہ سے کام کرنے کا موقع ملا۔ اب دعوت الی اللہ پر زور دینا شروع کیا۔ دعوت الی اللہ کا کانسیپٹ بالکل شروع ہی سے والد صاحب کے اوپر واضح تھا۔ اس کو آپ’’ قرآن کا مطلوب انسان‘‘ کتاب میں دیکھ سکتے ہیں، جو کہ 1955 سے لے کر 1963 تک جماعت اسلامی ہند کے مختلف اجتماعات میں کی گئی تقریروں پر مشتمل ہے۔ لیکن الرسالہ کے ذریعہ پہلی بار مکمل آزادی سے پیغام دینے کا موقع ملا۔
والد صاحب نے سب سے پہلے جماعت اسلامی، اس کے بعد ندوة العلماء اور جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم پر کام کرنے کی کوشش کی۔ لیکن کہیں بھی آزادانہ ماحول نہ تھا۔ والد صاحب سے میں نے اس بارے میں پوچھا تھا تو انھوں نے کہا کہ میں اپنے دعوتی کام کے لیے پلیٹ فارم تلاش کر رہا تھا۔ لیکن کہیں بھی مکمل آزادی نہیں تھی۔ سب سے بڑا مسئلہ تو یہ تھا کہ جہاں کسی اکابر پر تنقید ہو جاتی تو اس حلقہ کے لوگ سخت ناپسند کرتے۔ جب کہ تنقید کے بغیر بات میں کلیٹی (clarity) نہیں آتی۔ مثال کے طور پر الجمعیۃ میں ایک بار ایک مضمون میں لکھ دیا کہ مولانامحمودحسن کی ریشمی رومال تحریک ایک جذباتی تحریک تھی۔ اس پر بہت سے لوگ ناراض ہو گئے۔ مولانا اسعد مدنی نے ان کو ٹھنڈا کیا۔ مسلمانوں میں کام کرنے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ کسی کے خلاف تنقید نہیں کی جاسکتی۔ پرانی پلاننگ کی غلطی واضح کے بغیر نئی پلاننگ کیسے کی جاسکتی ہے۔ لیکن اکابر پرستی اتنی گہرائی سے پیوست ہو چکی ہے کہ لوگوں کو اپنے اکابر پر تنقید برداشت نہیں۔ اسی وجہ سے مسلم ادارے ذہین افراد کو ویلکم نہیں کرتے۔ ندوہ سے علیحدگی کی بعد کچھ لوگوں نے وہاں کے اعلیٰ منتظمین سے بات کی کہ مولانا کو دوبارہ ندوہ بلايا جائے ۔ مگر وہاں کے منتظم اعلیٰ نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ ہم شیر سے کام نہیں لے سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم اداروں میں بس بلڈنگیں ہیں، کوئی قابل ذکر کام کہیں نہیں ہورہا ہے۔ عام طور پر تو گھر کے کام ہم لوگ خود ہی کرتے تھے لیکن کچھ کام ایسے ہوتے کہ ہمیں والد صاحب
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues