پیش لفظ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶
غیر مسلموں سے تعلقات بڑھانا اور ان کو اسلام کا پیغام پہنچانا مسلمانوں کا اولین فریضہ ہے۔ الرسالہ بہت جلد مقبول ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کتابیں برابر شائع ہوتی رہیں ۔ پرانی دلی میں جمعیۃ بلڈنگ کافی انٹیریئر (interior) میں تھی۔ وہ جگہ آسانی سے accessible نہیں تھی۔ لیکن نظام الدین ویسٹ آنے کے بعد لوگوں سے ملاقات کی بہت آسانی ہو گئی۔
نظام الدین دہلی کا ایک سنٹرل لوکیشن ہے۔ یہاں آنے کے بعد کافی پروگرام میں جانے کا موقع ملا۔ برابر پروگرام کا مولانا صاحب سفر نامہ لکھتے تھے۔ جن میں سے اکثر الرسالہ میں اور بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ بیرون ہند اسفار نے الرسالہ کی عمومی اشاعت میں بہت زیادہ مدد کی۔ ان سفروں کے ذریعہ بے شمار تجربات ہوئے جو کسی اور ذریعہ سے نہیں ہو سکتے تھے۔ مشن کو پھیلانے میں یہ اسفار بہت معاون ثابت ہوئے۔
بعد کے دور میں والد صاحب اپنے ساتھ ہم لوگوں کو بھی لے جاتے تھے۔ رجت ملہوترا، نغمہ صدیقی، پریا ملک، ساجد صاحب، استی ملہوترا، خرم قریشی وغیرہ۔ سفر میں کئی دن کا ساتھ ہوتا، اس سے ٹیم کی زبردست ٹریننگ ہوئی۔
سی پی ایس کا قیام 2001 میں عمل میں آیا۔ سی پی ایس میں کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شامل ہوئے۔ مثال کے طور پر پریا ملک، رجت ملہوترا، نغمہ صدیقی، نودیپ کپور، وغیرہ۔ یہ لوگ اور ان کے ساتھی ہر سنیچر اور اتوار کی کلاس میں شامل ہوتے۔ اس میں تعلیم یافتہ ہند و اور مسلمان دونوں شریک ہوتے۔ ثانی اثنین کی صاحبزادی سعدیہ خان، صوفیہ خان اور ماریہ خان اور مسلمہ صدیقی کی صاحبزادی راضیہ صدیقی، اور صاحبزادے رامش صدیقی۔ یہ لوگ اور ان کے ساتھی اور کلاس میٹ اکثر کلاس میں آتے۔ یہ سب لوگ انگلش اسکولوں کے تعلیم یافتہ تھے۔ لہذا وہ اسلام کو اپنے انٹلیکچول لیول پر سمجھنا چاہتے تھے۔ والد صاحب ان کے سوالات کا جواب دیتے۔ جو لوگ سی پی ایس کی اسپرچول کلاس میں برابر شریک ہوتے تھے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے مولانا کو کتابوں سے اتنا نہیں سمجھا تھا جتنا ان اسپرچول کلاس سے سمجھا۔ پہلے یہ لوگ ڈائری پر سارے points کو نوٹ کرتے تھے۔ اس کے بعد جب ڈاکٹر نغمہ صدیقی کلاس میں آئیں تو انھوں نے لیپ ٹاپ پر سب کچھ ریکارڈ کرنا شروع کیا۔ اس طرح ساری باتیں دوسروں کو forward کرنے میں بہت آسانی ہو گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues