Al-Risala · August 2021 · page 27

پیش لفظ

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۷

جلد ہی بعد ثانی اثنین اور دوسرے سی پی ایس ممبرس نے مل کر باقاعدہ اسٹوڈیو بنایا اور والد صاحب کے سارے پروگرام کی ویڈیو ریکارڈنگ ہونے لگی۔ جو کہ آج فیس بک اور یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔ اس طرح آج ایک بہت مضبوط ٹیم تیار ہو چکی ہے، جس میں علماء بھی ہیں اور ماڈرن اعلی تعلیم یافتہ افراد بھی۔ ان کے اندر معرفت، خدا رخی سوچ اور دعوہ ورک کا بھر پور جذبہ موجود ہے۔ ہندوستان اور ہندوستان کے باہر مختلف سی پی ایس سنٹر بنے اور پوری دنیا میں دعوہ ورک ہونے لگا۔ جب قرآن کا انگریزی ترجمہ اور ہندی ترجمہ شائع ہوا تو دعوہ ورک کافی بڑھ گیا۔ ٹیم کے لوگ ہر پروگرام میں جاتے اور وہاں قرآن کا ڈسٹری بیوشن کرتے۔ قرآن ڈسٹری بیوشن کا ایک طریقہ اور بھی اختیار کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر دنیا کے کسی بھی کونے سے آ کر کوئی بھی شخص قرآن کے لیے ایک ریکویسٹ ڈال سکتا ہے۔ اس کو مقامی ٹیم کے ذریعہ یا بذریعہ ڈاک اس کی اپنی زبان میں قرآن کا ترجمہ بھیج دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ثانی اثنین نے بہت محنت سے قرآن کا ترجمہ بہت سی زبانوں میں subsidized ریٹ میں دستیاب کیا۔ فی الحال 40 زبانوں میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے، مزید تراجم کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ نوبل انعام یافتہ ایچ ۔ اے ۔ کرئیبز (H.A.Krebs) نے اعلیٰ سائنس دانوں کی زندگی کا مطالعہ کیا تو اس نے کہا:

”سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ایک عظیم استاد یا سائنس داں اپنے شاگرد کے ذہن میں حقائق کے بارے میں معلومات سے کہیں زیادہ ایک ذہنی رویہ (attitude) منتقل کرتا ہے... اس ذہنی رویہ میں دو باتیں بالخصوص بہت اہم ہیں۔ ایک عجز (humility) اور دوسرا شوق (enthusiasm)۔ “ والد صاحب نے اپنی تمام زندگی مذہبی اعتبار سے یہی کوشش کی۔ اس کو اس کتاب میں موجود تاثرات سے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ سب چیزیں جب میں دیکھتی ہوں تو مجھے اللہ کی خصوصی مدد کا احساس ہوتا ہے اور والد صاحب کے جانے کے بعد ایک بڑی ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے۔ والد صاحب کہتے تھے کہ میں ٹیم کے لیے بہت زیادہ دعا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ والد صاحب کی دعاؤں کو قبول فرمائے، ہماری خوب خوب مدد فرمائے تا کہ ہم لوگ والد صاحب کے expectations پر پورے اتریں ۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں جنت کے ریوارڈ کے مستحق ٹھہریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page