پیش لفظ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۸
مولانا وحید الدین خاں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، ڈین آف کیمبرج اسلامک کالج ابھی خبر ملی کہ آج ( بروز چہار شنبہ 9 رمضان المبارک 1442 ھ مطابق 21 اپریل (2021 ہندوستان کے معروف اسلامی مفکر ومصنف مولانا وحید الدین خان کا 96 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا، کئی دہائیوں سے برصغیر میں ان کی انفرادیت مسلم تھی، وہ تقلید، قدامت پسندی اور اکابر پرستی سے دور تھے، مجتہدانہ اور محققانہ شان کے حامل تھے، اور ان کو تخلیق واجتہاد سے دلچسپی تھی، وہ ”نہیں“، ”کو ہے“ میں بدلنے کے قائل تھے، اور اس کے لیے ہر قسم کی جد و جہد کرتے، یہ انہیں کا قول ہے: ”جو لوگ تخلیق کی صلاحیت کھودیں، وہ کسی اور چیز کے ذریعہ یہاں اپنا مقام نہیں پاسکتے، خواہ وہ کتنا ہی شور وغل کریں، خواہ ان کے فریاد واحتجاج کے الفاظ سے تمام زمین و آسمان گونج اٹھیں، وہ لاؤڈ اسپیکروں کا شور تو برپا کر سکتے ہیں، مگر وہ استحکام کا خاموش قلعہ کبھی کھڑا نہیں کر سکتے“ (کتاب زندگی ص 11)۔ مولانا کی پیدائش اعظم گڑھ کے ایک گاؤں میں ہوئی تھی، مدرسۃ الاصلاح سرائے میر میں تعلیم پائی، ذاتی محنت سے انگریزی میں دسترس حاصل کی اور علوم جدیدہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا، دارالعلوم ندوۃ العلماء میں قیام کے دوران اپنی سب سے معرکہ الآراء کتاب مذہب اور جدید چیلنج تصنیف کی، مجلس تحقیقات ونشریات اسلام سے 1966ء میں شائع ہوئی، اور اس کا عربی ترجمہ ”الاسلام تحدی“ کے نام سے کویت سے 1970ء میں طبع ہوا، جماعت اسلامی سے وابستہ رہے، جمعیۃ علمائے ہند کے ہفت روزہ الجمعیۃ میں کچھ سالوں کام کیا، پھر سب سے الگ ہو کر اپنی منفرد شناخت بنائی، اور مثبت تحریروں کے ذریعہ فکر اسلامی کے ارتقاء میں حصہ لیا۔
ندوہ کی طالب علمی سے میں الرسالہ کا قاری رہا ہوں، اور ہمیشہ مولانا کے مضامین بڑے شوق سے پڑھتا، مولانا ریڈرز ڈائجسٹ اور انگریزی اخبارات اور مجلات سے چھوٹی کہانیوں کو لے کر ان سے بہترین نتیجہ نکالتے تھے۔
مولانا سے پہلی ملاقات نظام الدین میں ان کے گھر پر 1983ء میں ہوئی، وہ ابھی جلد ہی وہاں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues