Al-Risala · August 2021 · page 29

پیش لفظ

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹

منتقل ہوئے تھے، اس وقت وہ زیادہ تر نمازیں مرکز نظام الدین میں ادا کرتے تھے، اور تبلیغی جماعت کی افادیت کے قائل تھے، بعد میں تبلیغ کے متعلق ان کی رائے بدل گئی تھی، اس ملاقات میں ان سے ایک خاص تعلق ہو گیا تھا، پھر جب بھی جانا ہوتا تو ان سے ملاقات کی کوشش کرتا، مولانا کے صاحبزادے جناب ڈاکٹر ثانی اثنین خان اور ان کی پوتیاں یہاں آکسفورڈ مجھ سے ملاقات کے لیےلیے آۓ، اور ان سے ای میل کے ذریعہ وقتاً فوقتاً رابطہ بھی رہا، ہر ملاقات میں مولانا اپنی کوئی نہ کوئی کتاب ضرور ہدیہ کرتے، اور ان کی گفتگو سے فکر و نظر کے نئے دریچے وا ہوتے، ایک بار ان سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو اپنے گھر کے سارے افراد کو بلایا اور مجھ سے کچھ نصیحت کرنے کے لیے فرمایا، میں نے عرض کیا کہ آپ کے سامنے کچھ کہنے کی ہمت نہیں پڑتی، مگر مولانا کا اصرار جاری رہا تو مولانا ہی کی زندگی کے کچھ اسباق ان کے سامنے رکھے، مولانا نے ایک بار مجھ سے میری کتاب محدثات کے متعلق دریافت کیا اور پوچھا کہ ان خواتین کی زندگی میں غیر مسلم عورتوں کے لیے سیکھنے کی کیا چیز ہے؟ میں نے کسی وجہ سے اس موضوع پر گفتگو کرنے سے معذرت کر لی۔

انہوں نے بڑی فعال، متحرک اور سرگرم زندگی گزاری، وہ ایک محنتی انسان تھے، راحت طلبی سے کوسوں دور تھے، ایک بار گرمیوں میں میں ان سے ملنے گیا تو اپنے بالائی کمرہ میں سخت گرمی میں اپنے کام میں مشغول تھے، چھت کی تپش جسم پر محسوس ہو رہی تھی، ہم لوگوں کے لیے وہاں بیٹھنا مشکل تھا، میں نے عرض کیا کہ اس گرمی میں آپ کو کسی ٹھنڈے کمرہ میں کام کرنا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کی عادت ہو گئی ہے، اور کچھ پتہ نہیں چلتا، محنت کا یہ جذبہ ان کی حیرت انگیز کار کردگی کی روح ہے، ان کی یہ بات بڑی قیمتی ہے:”حقیقت یہ ہے کہ تمام علوم محنت کی درسگاہ میں پڑھائے جاتے ہیں، تمام ترقیاں محنت کی قیمت دے کر حاصل ہوتی ہیں، اور محنت وہ چیز ہے جو ہر آدمی کو حاصل رہتی ہے، حتیٰ کہ اس آدمی کو بھی جس کو بیماری نے معذور بنا دیا ہو، جو کالج اور یونیورسٹی کی ڈگری لینے میں ناکام ثابت ہوا ہو، محنت ایک ایسا سرمایہ ہے جو کبھی کسی کے لیے ختم نہیں ہوتا‘‘ (کتاب زندگی ص 12)۔ مولانا بنیادی طور پر ایک مفکر و دانشور تھے، یعنی وہ جذبات و احساسات کی گرفت سے آزاد ہو کر اصول کی بنیاد پر کوئی بات کہتے تھے یا کوئی اقدام کرتے تھے، بر صغیر میں عام مسلمان رہنما اس فکر میں رہتے ہیں کہ کہیں ان کا حلقہ ان سے کٹ نہ جائے، کہیں ان کی مقبولیت پر آنچ نہ آجائے، نتیجہ یہ ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page