پیش لفظ
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۰
ہے کہ ان کی فکر رسوم و روایات سے آزاد نہیں ہو پاتی، ، اور وہ اسی دائرہ میں گردش کرتے رہتے ہیں، انہیں نہ دوسرے جہانوں کا علم ہوتا ہے اور نہ اپنے بادہ دردی آمیز کے سواکسی شراب خالص وصافی کی جستجو ہوتی ہے:
آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں مولانا کا خیال تھا کہ ہندوستان کے علماء و مصلحین روح عصر سے خالی ہیں، انہیں یہ اندازہ نہیں کہ آزادی کے بعد ایک نئے ہندوستان نے جنم لیا ہے، ان کے رویوں سے لگتا ہے کہ گویا وہ مغلیہ دور میں، یا خلافت عباسیہ میں، یا عہد آل عثمان میں جی رہے ہیں، کور پسندی اور غفلت کے اس ماحول میں وہ تنہا مفکر ہیں جو روح عصر کی منادی کرتا ہے، طبقہ علماء میں اس وقت ان کے علاوہ کوئی نہیں جو عصری اسلوب میں لکھتا ہو، اس میں شاید کچھ مبالغہ ہو، لیکن اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ جس استقلال کے ساتھ انہوں نے اپنے زمانے کے انسانوں کو خود ان کی زبانوں میں پیغام حق سنانے کی ذمہ داری نبھائی ہے وہ ان کا عظیم کارنامہ ہے۔
ان کو سوچنے کی عادت تھی، اور اس دائرہ سے باہر نکل کر سوچتے تھے جس کے اندر عام پڑھے لکھے لوگ مقید ہوتے ہیں، اور جس سے نکلنے کی نہیں سوچ سکتے، بلکہ نکلنے کو کفر و فسق سے تعبیر کرتے ہیں، مولانا ان بندشوں سے آزاد تھے، ان کی یہ بات بالکل سچ ہے: ”ہر زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ بعض خیالات آدمی کے ذہن پر اتنا زیادہ چھا جاتے ہیں کہ ان سے نکل کر آزادانہ طور پر سوچنا آدمی کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے، یہ مذہبی دائرہ میں بھی ہوتا ہے، اور غیر مذہبی دائرہ میں بھی۔ یہ بند ذہن ہر قسم کی ترقی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے‘‘ (کتاب زندگی ص 39)۔
اس پر ان کا ایمان واجب الاذعان تھا کہ مسلمانوں کی ترقی کا راستہ پر امن ماحول میں کام کرنا ہے، ان کا یہ ارشاد گرامی اسلامی مراجع کے وسیع و عمیق مطالعہ کا ثمرہ ہے: ”حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے، اور جنگ کی حیثیت صرف استثناء (exception) کی ، اسلام کی تمام تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی عملی زندگی اس کی تصدیق کرتی ہے‘‘ (امن عالم ص 13)۔ انہوں نے لوگوں سے اختلاف کیا اور لوگوں نے ان سے اختلاف کیا، اور اختلاف اگر مہذب اور معقول ہو تو افکار و نظریات کی تطہیر کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ ان کے متعلق
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues