Al-Risala · August 2021 · page 31

”اتنی عقل جانوروں کو بھی ہوتی ہے“

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۱

بدگمانیاں بہت پھیلائی گئیں، ان کے خیالات کو صحیح و معتدل معیار پر نہیں جانچا گیا۔ وہ ہندوستان کے موجودہ ماحول میں مسلمانوں کو زندہ رہنے، پر امن طریقہ سے اسلام کی تعلیم اور دعوت عام کرنے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کا درس دیتے تھے، وہ ممکن کی موجودگی میں ناممکن کے پیچھے وقت ضائع کرنے کو بیوقوفی سمجھتے تھے، واقعہ ہے کہ متعدد حیثیتوں سے ان کا طریقہ کار قابل عمل ہے، اور شاید آئندہ ان کے مخالفین بھی وہی باتیں کریں گے جن پر اب تک تنقید کرتے رہے ہیں۔ کون ہے جو اس کا اعتراف نہ کرے کہ مولانا نے بے شمار انسانوں کے ذہنوں کو متاثر کیا، ان کی تحریروں نے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی رہنمائی میں بڑا کردار ادا کیا، انہوں نے مثبت اور پر امن طریقہ سے ٹھوس اور پائیدار کام کرنے کا نمونہ پیش کیا، اور کتنے مایوس لوگوں کو یاس و نا امیدی سے نکالا اور انہیں جینے کا حوصلہ دیا، وہ یہ کہہ سکتے ہیں: ”شادم از زندگی خویش که کارے کردم“، رحمہ اللہ رحمۃ واسعہ۔ مورخہ 19 ستمبر 1979ء مولانا وحید الدین خاں صاحب جموں کشمیر کے سفر کے دوران میرے گھر تشریف لائے۔ یہاں میں نے انھیں اپنے گھر میں ابابیلوں کے حوالے سے ایک چشم دید واقعہ سنایا، یہ واقعہ مولانا کی کتاب رازِ حیات میں اس عنوان سے درج ہے:

”اتنی عقل جانوروں کو بھی ہوتی ہے“

ابابیلوں کا یہ واقعہ میرے لیے کوئی اہم واقعہ نہ تھا مگر مولانا نے اس واقعہ کو سن کر ایک خوبصورت تحریر قلمبند کی۔ الرسالہ میں یہ تحریر جب میں نے پڑھی تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی، چھوٹے چھوٹے واقعات سے اک بڑی بات نکالنا اس فن میں مولانا کو کمال درجہ کی مہارت تھی۔ بلاشبہ اس تحریر نے میری زندگی کا نقشہ بدل دیا۔ پہلے میں اپنی ناکامی کی وجوہات اپنے باہر دیکھتا تھا مگر اس تحریر نے مجھے سکھایا کہ اکثر ناکامی کی وجوہات اپنے اندر ہوتی ہیں۔ بلاشبہ یہ نکتہ جسے سمجھ میں آ گیا، اس نے زندگی میں کامیابی کا راز پا لیا۔ (خورشید بسمل، تھنہ منڈی، جموں کشمیر) اسلام کا خوبصورت چہرہ پیش کرنے والے حقیقی عالم مولانا وحید الدین اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ (ملک سعد، سی پی ایس اسلام آباد)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page