”اتنی عقل جانوروں کو بھی ہوتی ہے“
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۲
ایک عالم ربانی وہمہ جہت شخصیت پروفیسر ظہیر الدین خواجہ، رائچور (کرناٹک)
محترم مولانا وحید الدین خاں صاحب سے میں تین دہائی قبل 1989ء میں اپنے ایک رفیق کے توسط سے واقف ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کہ ہمارے شہر میں ماہنامہ الرسالہ پڑھا جانے لگا تھا، اور شہر رائچور (کرناٹک) میں فکر الرسالہ سے وابستگان کا حلقہ بھی وجود میں آچکا تھا۔ اس وقت حلقہ الرسالہ رائچور کے روح رواں شہاب الدین صاحب تھے۔ ان سے تقریباً روزانہ ملاقات ہوا کرتی تھی۔ الرسالہ سے وابستہ افراد اپنے فرصت کے اوقات میں مل بیٹھتے۔ ان ملاقاتوں میں عام طور پر ماہنامہ الرسالہ کے مضامین پر گفتگو ہوتی، مولانا کے افکار و دیگر علمائے کرام کے علمی کام کا تقابل کیا جاتا۔ اس طرح میری مولانا کی فکر سے واقفیت اور ذہنی وابستگی بڑھتی چلی گئی۔ مولانا وحید الدین خاں سے تعارف ہوئے ایک دو برس بھی نہیں گزرے تھے کہ ان سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ دسمبر 1990ء کے آخری ہفتے میں مجھے ایک تعلیمی سفر کے سلسلے میں ایک ہفتہ کے لیے نئی دہلی جانے کا موقع مل گیا۔ اس سفر کے دوران میں نے مولانا سے ملاقات کا پروگرام بنالیا۔ غالباً جنوری 1991 کی 2 یا 3 تاریخ رہی ہوگی، میں مولانا سے ملنے ان کے رہائشی علاقے نظام الدین ویسٹ گیا۔
یہ جان کر خوشی ہوئی کہ مولانا گھر ہی پر ہیں اور ملاقات کی اجازت بھی مل گئی ہے۔ حالانکہ میں نے ملاقات کے لیے پہلے سے ان سے وقت نہیں لیا تھا۔ میں سیڑھیوں سے چڑھ کر اوپر کی منزل پر پہنچا، جہاں مولانا رہا کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوئی کہ میرے استقبال کے لیے مولانا پہلے سے دروازہ پر کھڑے تھے (اس وقت میری عمر 21 سال تھی)۔
سلام و دعا کے بعد میں ان کے ہمراہ فرش پر بچھی ہوئی چادر پر بیٹھ گیا۔ تقریبا ایک گھنٹہ مولانا سے گفتگو ہوتی رہی۔ اب مجھے مکمل گفتگو تو یاد نہیں، البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ مولانا نے مجھ سے تعارف کے بعد مختلف سوالات کیے تھے۔ مثلاً الرسالہ سے آپ کیسے واقف ہوئے۔ شہر رائچور میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues