”اتنی عقل جانوروں کو بھی ہوتی ہے“
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۳
کتنے احباب اس فکر سے جڑے ہوئے ہیں، الرسالہ کی کتنی کاپیاں آپ کے یہاں آتی ہیں؟ جہاں تک مجھے یاد ہے مولانا نے مجھ سے پوچھا تھا کہ آپ جانتے ہیں الرسالہ کا مقصد کیا ہے۔ میں نے فورا جواب دیا آخرت اور دعوت۔ میرے جواب سے خوش ہو کر فرمایا کہ اس کے علاوہ الرسالہ کا ایک اور مقصد بھی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو باشعور بنانا۔ یہ تھی مولانا سے میری پہلی ملاقات کی مختصر روداد۔ یہ تو ایک رسمی ملاقات تھی اور اس سے کسی کی شخصیت کو سمجھنا کہاں ممکن ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے مولانا کی کتابوں کا مطالعہ کرتا گیا، ویسے ویسے یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ اتنی گہرائی سے قدیم و جدید علوم کا مطالعہ اور ان کا اتنا عمیق تجزیہ پڑھ کر ایسا لگا کہ مومنانہ فراست کی اس سطح سے واقعات اور تاریخ کو دیکھا اور سمجھا جا رہا ہے، جس کو حدیث میں ربانی نور سے دیکھنا کہا گیا ہے۔ فطرت اور حقائق کا ایسا بیان مشکل سے کہیں دیکھنے کو ملے گا۔ مولانا کو اپنے لطیف احساسات کو زبان دینے کا ملکہ حاصل تھا۔ مختصر الفاظ ، رواں تحریر، فکر میں وضوح ، مدلل اور عصری اسلوب نگارش، ایک بار جو مولانا کو پڑھتا اس کے بعد دوسرے مصنفین کو پڑھنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا۔ ایک عرصے تک مولانا کے افکار کی ترویج کا طریقہ الرسالہ اور دیگر کتب کی اشاعت ہی تک محدود رہا۔ تشنگان علم کو اسی پر اکتفا کرنا پڑتا تھا۔ 2001ء میں سی پی ایس انٹرنیشنل کے قیام کے بعد پہلی بار مولانا کی آڈیو اور ویڈیو انٹرنیٹ پر دستیاب ہونے لگیں۔ ان کو سننے کے بعد یہ احساس تازہ ہوا کہ تحریر کا دامن کتنا تنگ ہے۔ مولانا کی شخصیت و علم کے کئی گوشے جو تحریر میں سمانہ سکے وہ پہلی مرتبہ اب آڈیو اور ویڈیو کے ذریعہ ہم تک پہنچ رہے تھے۔ ابھی اس احساس سے نکل ہی پایا تھا کہ کچھ ایسے احباب سے ملنے کا اتفاق ہوا جنھیں مولانا کی صحبت میں طویل عرصہ رہنے کا موقع ملا تھا۔ ان کے مشاہدات سن کر ایسا لگا کہ مولانا کی شخصیت نہ تو تحریر میں سما سکی ہے اور نہ تقریر میں۔ اس پر میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا کہ تحریر میں پڑھ کر آپ مولانا کی صرف نصف شخصیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ کاش ہم لوگ مولانا کی قدر کرتے اور اپنے آپ کو اس سائنٹفک صوفی کی تربیت میں دیتے تو شاید ہمیں بہت کچھ اور بھی سیکھنے کا موقع ملتا۔ واضح ہو کہ یہ بیان واقعہ ہے، یہ کوئی شخصیت پرستی کی بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ شخصیت سازی کا مسئلہ ہے۔ اصل المیہ ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے کہ ہمارا نظام تعلیم کسی نہ کسی درجے میں بے روح اور رسمی سطح پر باقی رہا، مگر ہمارا نظام تربیت نہ صرف باقی نہ رہا، بلکہ اس کی اہمیت و افادیت بھی ذہنوں سے محو
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues