Al-Risala · August 2021 · page 34

”اتنی عقل جانوروں کو بھی ہوتی ہے“

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۴

ہوتی چلی گئی، جس کی وجہ سے آج ہم نہ صرف اخلاقی بحران کا شکار ہیں۔ بلکہ زوال اور پستی کی طرف ہمارا سفر مسلسل گامزن ہے، اور اس صورت حال سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے سوائے تربیت کے، مگر افسوس اب تو قحط الرجال کا دور ہے ایسے افراد اب بمشکل ہی ملیں گے جن کی صحبت میں رہ کر آدمی اپنی تربیت کا کوئی سامان کر سکے۔

خدا نے انسانوں کی ہدایت کے لیے صرف کتابیں نہیں اتاریں بلکہ تربیت کی۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایک انسان کو پیغمبر اور ہادی بنا کر اس ذمے داری کے ساتھ بھیجا کہ وہ تعلیم کتاب و حکمت کے ساتھ ساتھ اہلِ ایمان کی لازماً تربیت (تزکیہ) بھی کرے ۔ چونکہ انسان صرف ذہن کا نام نہیں ہے بلکہ انسان ذہن اور وجود دونوں کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے ادوار میں ہمارے ہاں جو تعلیمی نظام بنا اس میں تربیت کو پوری اہمیت کے ساتھ باقی رکھا گیا، بلکہ خانقاہی نظام میں صوفیا نے تو تربیت کو تعلیم پر ہمیشہ مقدم رکھا۔ سالک کی تربیت پہلے ہوتی تھی اور تعلیم بعد میں ۔ اور تربیت کے لیے صحبت لازمی شرط ہے۔ تربیت سے جی چرانے کے لیے موجودہ دور میں ہم نے شخصیت پرستی جیسے خوب صورت الفاظ بھی تراش لیے ہیں، اور علما سے استفادہ کرنے کو ہم نے صرف ذہنی سطح تک ہی محدود رکھ کر ایک طرح کے intellectual entertainment کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

کچھ ایسے ہی تربیتی پہلو جو 2013ء سے 2015ء کے درمیانی عرصے میں منعقد ہونے والے مختلف دعوہ میٹس میں شرکت کے بعد براہ راست میرے تجربے، مشاہدے اور علم میں آئے، انہیں میں یہاں ذکر کرنا چاہوں گا۔

1۔ CPS کی ایک کانفرنس میں مولانا نے تمام شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کسی کے دل میں ذرہ برابر بھی دوسروں کے لیے کوئی منفی احساس (negativity) موجود ہے تو ایسا شخص ہمارے مشن کا ساتھی ہرگز نہیں ہو سکتا۔ آخرت میں کسی کے خلاف میرا کوئی مقدمہ نہیں ہوگا۔ جن لوگوں نے بھی میرے خلاف لکھا، بے بنیاد الزامات لگائے، مجھے بدنام کیا، جو کچھ بھی میری مخالفت میں کیا، سب کو میں نے اسی دنیا میں معاف کر دیا۔

2۔ ایک صاحب کا انتقال ہوا جو مولانا کی شدید مخالفت کیا کرتے تھے اس خبر کو سن کر مولانا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page