”اتنی عقل جانوروں کو بھی ہوتی ہے“
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۶
درکار ہیں جو آخری حد تک بے نفس ہوں۔ مثلاً اگر کوئی ساتھی اس پروگرام میں شرکت کے لیے یہاں آئے اور کوئی بھی اس کا استقبال نہ کرے، نہ کوئی کھانے کے لیے بلائے، نہ رہنے اور سونے کا کوئی انتظام کرے، یہاں تک کہ کوئی بات بھی نہ کرے، ان سب وجوہات کے باوجود اس کے دل میں کسی بھی ساتھی کے خلاف نہ کوئی منفی سوچ آئے اور نہ کوئی شکایت پیدا ہو۔ ایسے ساتھی ہمیں چاہیے۔ اپنے آپ کو ایسا بنائیے تب جاکر آپ اس مشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔
7۔ بنگلور میں، جہاں پروگرام منعقد ہو رہا تھا، اس جگہ کا نام ”وِسْتار“ (Vistar) تھا۔ انھوں نے ایک بلی پال رکھی تھی جو کہ بہت زیادہ لحیم شحیم تھی تقریباً 20 کلو کی رہی ہوگی اور کسی کے پاس نہ آتی تھی، ان لوگوں نے بتایا کہ یہ کسی اجنبی کے پاس نہیں جاتی۔ دوسرے دن ایسا ہوا کہ مولانا کے کمرے میں آئی، وہاں کئی ساتھی بیٹھے مولانا سے گفتگو کر رہے تھے، مگر کسی کے پاس نہیں گئی سیدھے مولانا کی گود میں جا بیٹھی اور سو گئی، مولانا خاموش بیٹھے رہے اور کہا کہ اب میں اس کی نیند میں خلل نہیں ڈالوں گا جب تک یہ خود سے بیدار نہیں ہو جائے گی۔ ویسے ہی بلا حرکت بیٹھے رہے۔ 8۔ بنگلور دعوہ میٹ میں مولانا کا خطاب ہونے والا تھا۔ نشست کی تیاری چل رہی تھی میز پر پانی رکھا ہوا تھا۔ گلاس اٹھا کر مولانا نے تھوڑا پانی پیا اور گلاس واپس میز پر رکھا، ہمارے ایک ساتھی محمد صلاح الدین (رائچور) نے فوراً گلاس اٹھایا اور دوبارہ بھر کر رکھا۔ مولانا نے انھیں قریب بلا کر پوچھا گلاس میں پانی بچا ہوا تھا، اسے پھینکا تو نہیں، انھوں نے کہا نہیں اُسی میں مزید پانی بھر کر لایا ہوں ۔ بولے آپ نے ٹھیک کیا، پانی خدا کی عظیم نعمت ہے، ہم ایک قطرہ پانی بنا نہیں سکتے لہذا ہمیں استعمال کرنے کا حق تو ہے پر ایک قطرہ بھی ضائع کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ 9۔ کچھ مشن کے ساتھیوں سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ مولانا سے ملنے گئے ۔ گفتگو کے درمیان کھجور پیش کیے گئے، ہم سب نے کھائے۔ گفتگو کے بعد کل دوبارہ ملنا طے ہوا، اور ہم اپنی رہائش گاہ واپس آگئے۔ دوسرے دن ہم مقررہ وقت پر پہونچے تو پتا چلا مولانا ہم لوگوں سے سخت ناراض ہیں اور ملنے سے انکار کر دیا۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہوا کیا ہے، بہت معذرت کے بعد اجازت ملی تو فرمایا کچھ پتا بھی ہے کہ آپ لوگوں نے کل کیا حرکت کی؟ ہم نے کہا کہ ہمیں کچھ یاد نہیں۔ کل کھجور رکھا کر آپ لوگوں نے گٹھلیاں ادھر ادھر رکھ کر چلے گئے۔ آپ کیا سمجھتے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues