Al-Risala · August 2021 · page 38

”اتنی عقل جانوروں کو بھی ہوتی ہے“

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۸

مولانا سے میرا تعلق خواجہ کلیم الدین، سی پی ایس، امریکہ یہ مجھ پر اللہ رب العزت کا کرم رہا ہے کہ اس نے مجھے عرصہ دراز پہلے مولانا کی تصنیفات سے متعارف ہونے کا موقع عطا فرمایا۔ یہ میرا وہ وقت تھا جب کہ میں اپنی عملی اور پروفیشنل زندگی میں داخل ہورہا تھا۔ میری بچپن کی شخصیت روایتی مسلم ماحول سے تشکیل پائی تھی جس میں مذہب صرف چند بے جان رسوماتی عبادتوں کا مجموعہ تھا۔ ہر عبادتی عمل کو فضائل کے ترازو میں تولا جاتا تھا، مثلاً ان عبادتوں کو چند مخصوص دنوں اور اوقات میں ادا کرلو تو اس کی قیمت اور کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ آگے چل کر کالج کے زمانہ میں میری شخصیت اسلام کی سیاسی تعبیر پر مبنی تشریحات سے متاثر ہونے لگی تھی۔ میری بچپن کی شخصیت روایتی مسلم ماحول سے تشکیل پائی تھی تو کالج کے زمانے میں وہ اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہونے لگی تھی۔ اس وقت یہ بتایا جارہا تھا کہ اسلام اور مسلمان اعلیٰ ہیں اور خدا مسلمانوں کو اس کی حکمرانی قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ بھی بتایا جارہا تھا کہ مسلمانوں کی حکومت جو تقریبا ہزار سال تک جاری تھی مغرب نے سازش کے ذریعہ اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان تشریحات کے زیر اثر ایسا منفی ذہن بن رہا تھا کہ دوسری قومیں ہمیں اپنی دشمن نظر آنے لگی تھیں۔ ہم اور وہ (we and they) کی تقسیم ذہن میں بٹھائی جارہی تھی۔ غیر مسلم حکومتوں کو طاغوتی حکومتیں بتایا جاتا تھا، جس کے تحت زندگی گزارنا شرک تھا۔ یہ باتیں کتابوں اور اخبارات کے ذریعہ علم میں آرہی تھیں۔ میری پرورش ہائی اسکول کی تعلیم مکمل ہونے تک ایک دیہات میں ہوئی تھی۔ یہاں پر دین کا روایتی ماڈل مجھے روحانی تشفی نہیں دے رہا تھا تو کالج کے دور میں دین کی سیاسی تعبیر کی وجہ سے بیچینی تھی۔ غالباً وہ اس لئے تھا کہ دیہات ماحول میں ہم اور وہ (we and they) کا غیر فطری ماحول موجود نہ تھا، نہ ہی کالج میں ایسی سوچ پائی جاتی تھی۔ میرے زیادہ تر دوست غیر مسلم ہوا کرتے تھے اور ان کے ساتھ میرے اچھے مراسم تھے اور کافی فکری تبادلہ خیال بھی ہوا کرتا تھا۔ ہم مل کر خوب اسٹڈی کیا کرتے تھے۔ 1976ء میں جب میں کالج سے فارغ ہو کر عملی زندگی میں داخل ہوا تو میرے ایک رفیق کار نے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page