Al-Risala · August 2021 · page 39

”اتنی عقل جانوروں کو بھی ہوتی ہے“

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۳۹

مجھے اردو الرسالہ کا ایک نسخہ دیا۔ مجھے اس وقت اردو پڑھنی نہیں آتی تھی۔ لیکن بچپن میں قرآن ناظرہ کے ساتھ پڑھنے کی وجہ سے چند عرصہ کی محنت کے بعد اردو پڑھنا ممکن ہو گیا۔ چونکہ الرسالہ کا ہر صفحہ نصیحت اور حکمت کا خزانہ ہوا کرتا ہے، اس لئے اس کا مطالعہ بلا انقطاع جاری رہا۔ الرسالہ میں تقریبا ہر مضمون کو میں نے قرآن یا حدیث پر مبنی پایا، ان کی تشریح دورِ جدید کی اصطلاحوں میں ہونے کی وجہ سے الرسالہ کے بعد مولانا کی دوسری کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ سب سے پہلے میں نے مولانا کی کتاب’’الاسلام‘‘ کو پڑھا، بلکہ اس کو میں نے کئی بار بغور پڑھا۔ اس کے مطالعے سے مجھے رسوماتی دین (جس پر میں بچپن سے قائم تھا) ایک غیر عقلی ریاضت لگنے لگا، اور سیاسی تعبیر والا دین غیر مدلل۔ مولانا کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے کے بعد اسلام مجھے ایک زندہ مذہب لگنے لگا۔ یہ میرے لیے صرف ایک ذاتی تزکیہ ہی کا ذریعہ نہیں بنا، بلکہ میرے لئے یہ ایک آفاقی، دعوتی اور فکری تحریک بن گیا۔ مجھے اس کا عملی نمونہ کتاب’’پیغمبر انقلاب‘‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ملا۔ پھر اس کے بعد میں نے مولانا کی اس وقت کی ساری کتابوں کو پڑھ ڈالا، بلکہ میں نے ان کو دو دو تین تین مرتبہ دہرایا۔ یہی طریقہ میں نے مولانا کی آنے والی ہر نئی کتاب کے ساتھ اپنایا۔ مولانا کی کتابوں میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے وہ معرفت خدا، موت کی یاد، خود احتسابی اور ترغیب دعوت۔ مولانا کے لٹریچر میں اتنی تاثیر ہے کہ اس سے ہر سنجیدہ قاری کی شخصیت میں مثبت تبدیلی آنا یقینی بات ہے۔ وہ ایک داعی بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس لٹریچر کے مطالعہ سے میری شخصیت میں اولین ایام سے ہی تبدیلی آنا شروع ہوگئی۔ چنانچہ اسی وقت سے میں نے یہ پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ قرآن وسنت کے دلائل پر مبنی جدید اسلوب میں لکھے ہوئے اس لٹریچر کو خدا کی مدد سے لوگوں سے شیر (share) کرتا رہوں گا۔ جہاں بھی رہوں، اس کو دوسروں تک پہنچاؤں گا۔ مولانا کی فکر کو لوگوں تک پہنچانے کا کام نائجیریا سے شروع ہوا۔ میں وہاں پہلے مرحلے میں اردو اور انگریزی کتابوں کو دوستوں میں مفت تقسیم کرتا رہا۔ اس کے بعد عام نائجیرین تک پہنچنے کی غرض سے الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ری پرنٹ (reprint) کروا کر لوگوں میں تقسیم کرتا تھا۔ امریکا پہنچنے کے بعد بھی یہی کام جاری رہا۔ اس وقت کے میرے نیو یارک کے اپارٹمنٹ میں جہاں میری رہائش تھی، کوئی ایسی خالی جگہ نہیں تھی جس کو میں نے کتابوں سے بھر نہ دیا ہو۔ اس کے بعد اللہ کی مدد آئی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page