Al-Risala · August 2021 · page 44

مولانا کی آئیڈیالوجی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۴۴

خیال درخیال محمد فاروق، لاہور مولاناوحیدالدین خاں رخصت ہو گئے اور علم و معرفت کا گنج ہائے گراں مایہ دہلی کی خاک میں شامل ہو گیا۔ اکیس اپریل نے علامہ اقبال کے بعد ایک اور جلیل القدر عالم اور غیر معمولی شخصیت کا سانحہ ارتحال اپنے نام لکھ لیا۔ مولانا اپنی پختہ عمر کو پہنچ چکے تھے، عموماً چھیانوے برس کا سفر کم ہی لوگ طے کرتے ہیں۔ ہر باشعور شخص جانتا ہے کہ اگلی منزل کیا ہو سکتی ہے۔ آخری ایام کی بیماریوں نے اندیشوں کو جنم دینا شروع کر دیا۔ مولانا کی زندگی کے ٹمٹماتے چراغ کو دیکھ کر دل بیٹھ سا جاتا تھا۔ ایسی حالت میں خدا سے بڑا کوئی سہارا نہیں تھا۔ لہذا گھر بیٹھا ہوں یا راہ چل رہا ہوں ایک ہی فکر دامن گیر رہتی تھی کہ مولانا کو کچھ ہو نہ جائے۔ فجر کی نماز ہو یا تراویح کا قیام ، بس مولانا کی صحت کے لیے دست دعا دراز رہتے تھے۔ یا اللہ ابھی بہت کام باقی ہے۔ اے خدا! اس مرد درویش کو تھوڑی مہلت اور دے دے۔

اچھی خبر آنے کی اُمید میں، میں دن میں واٹس ایپ کے متعلقہ گروپ کو بار بار دیکھتا۔ فیس بک کھولتا، کہیں آشاؤں کے پھول کھلتے نظر آجائیں۔ کسی طرف سے اُمید بہار کی خوشبو آ جائے۔ اس دوران اطلاع آئی کہ مولانا کی صحت میں کچھ استحکام آیا ہے۔ اس خبر دلکش میں قیامت کا اثر تھا۔ اس کے پھول کھل گئے، آرزوؤں کے چراغ جھلملانے لگے۔ حوصلہ ہوا کہ مفسر قرآن اور داعی اسلام کا قلم پھر متحرک ہوگا، ایک محدث پھر احادیث کی حکمت کو عیاں کرے گا۔ لیکن اگلے دن خبر آئی کہ صحت میں استحکام تو ہے مگر بہتری کمیاب ہے۔ میں خود سے ہم کلام ہو گیا۔ یا الہی! یہ ماجرا کیا ہے۔ ہماری دعاؤں کی تاثیر کہاں زائل ہوگئی۔ ہماری شب بیداری میں اثر کیوں نہ رہا۔

جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے تھے خدشات بڑھتے جا رہے تھے۔ 21 اپریل 2021 کو رات گیارہ بجے کے قریب مجھے اطلاع ملی کہ مولانا کو اللہ کی طرف سے بلاوا آگیا۔ مجھے اسی ہونے کا ڈر تھا۔ مگر بشری کمزوری ہے کہ جن سے محبت ہو، اُن کی موت کا یقین نہیں آتا۔ عمر اور بیماری سب

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page