مولانا کی آئیڈیالوجی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۴۷
کچھ گنو اسکتے ہیں، جو ہمارے حاشیہ خیال میں کبھی آیا ہی نہ ہو۔ غزوہ بدر و احد اپنی جگہ اہم ہیں۔ ان کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا ہے۔ لیکن صلح حدیبیہ فتح مبین کہلاتی ہے۔ اس لیے مولانا فرماتے تھے کہ امن کو شرائط پر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن کو قائم کرنے کے لیے صلح حدیبیہ کی طرح غیر مشروط ہونا چاہیے۔ جب امن ہوگا تو کامیابی کے مواقع عام ہوں گے اور فتح کے دروازے کھلیں گے۔ کیوں کہ اسلام امن کے ماحول میں آسانی سے دلوں کو مسخر کر لیتا ہے۔ تاریخ میں ایسا ہوتا تو نظر آتا ہے کہ مسلمان کبھی کوئی جنگ جیتے اور کبھی ہارے ہوں۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مسلمانوں نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں کبھی مار کھائی ہو۔ اس لیے اسلام کو سمجھنے کے لیے پرامن ماحول اشد ضروری ہے۔ پھر مولانا غور وفکر (contemplation) کے قائل رہے، مراقبہ، سرور (meditation) اُن کی تعلیمات کا حصہ نہ تھے۔ کیوں کہ اِس تدبر و تفکر سے خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ انسان کی سب سے بڑی دریافت اور سب سوالوں کا جواب خدا کی دریافت میں پوشیدہ ہے۔ گھاس کی پتی، پھولوں کی خوشبو، چاند کی چاندنی، سورج کی روشنی، ہواؤں کا چلنا، بارش کا برسنا، کائنات کا پھیلاؤ، غرض ہر چیز پر غور وفکر خدا کی وحدانیت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ دریافت اللہ اور مومن میں ایسا تعلق پیدا کرتی ہے۔ جیسا گرڈ اسٹیشن اور گھر میں جلنے والے بلب میں ہوتا ہے۔ مولانا کا کہنا یہ ہے کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جو آپ کے دوست ہیں دوسرے وہ جن میں آپ کا دوست بننے کا امکان پوشیدہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اِس دنیا میں محبتیں، دوستیاں، تعاون، خیر خواہی، کامرانی کا زینہ ہیں۔ یہاں دشمنیاں، انتقام، حقارت، نفرت ایسے دلدل ہیں، جن میں اُتر کر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ لہذا مثبت فکر کے ساتھ اور دوسروں کے خیر خواہ بن کر رہنا چاہیے۔ ہر فرد آپ کے لیے کچھ نہ کچھ لے کر آیا ہے۔ آپ کو محبت کرنی ہے نفرت نہیں۔ داعی پیکر محبت و صبر ہوتا ہے۔
مولانا صرف مذہبی عالم نہ تھے بلکہ وہ فلسفی و مفکر بھی تھے اُن کا خیال تھا کہ عام طور پر آدمی سماجی کنڈیشننگ کے تحت سوچتا ہے۔ جس چیز کو معاشرے نے اچھا کہا اُس کو وہ ساری عمر چھان پھٹک کے بغیر اچھا سمجھتا ہے، اور جس کو برا سنا اُس کو وہ کسی کسوٹی پر پرکھے بنا بُرا خیال کرتا ہے۔ مولانا چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے آپ کو ڈی کنڈیشنڈ کر کے سوچیں۔ اور چیزوں کو ویسے دیکھیں جیسی وہ ہیں۔ موجودہ دور شر کا دور نہیں بلکہ دعوت کا دور ہے۔ کیوں کہ زمانہ حاضر میں دعوت کے مواقع بے شمار
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues