مولانا کی آئیڈیالوجی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۴۸
ہیں۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا، کتابیں، رسالے بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کسی بھی مغربی ملک میں جا کر اپنی دعوت کا کام کر سکتے ہیں۔ لہٰذا غیر مسلم کو دعوت دیں، انھیں کافر کہنے کے بجائے مدعو سمجھیں۔
مولانا اپنے آخری ایام میں اپنی ساری عمر کے مطالعہ اور مشاہدے کا حاصل و دریافت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ ”اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آدمی دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرا بھر بھی کوئی منفی فکر نہ ہو۔ اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں ہو سکتی کہ آدمی دنیا سے اس طرح چلے جائے کہ اُس کا ذہن پوری طرح مثبت فکر کا حامل ہو۔ اس دنیا میں سب سے بڑی نیکی مثبت سوچ ہے۔ اور سب سے بڑی برائی منفی فکر ہے۔ یہی میری زندگی کی آخری دریافت ہے۔“ ”موت سے کس کو رستگاری ہے“۔ جو یہاں آیا ہے اُسے ایک نہ ایک دن جانا ہے۔ مولانا چلے گئے، ہم نے اللہ کے فیصلے کو قبول کر لیا۔ کیوں کہ وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اہل علم مولانا کی فکر، استدلال اور اسلوب کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کر سکتے ہیں، بعض سے اتفاق۔ اور کرنا بھی چاہیے تنوع واختلاف زندگی کا حسن ہے۔ لیکن یہ سب جزئی اور عام چیزیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ دین اسلام کا جو حقیقی مطلوب ہے، مولانا اُسی کی دعوت دیتے تھے۔ اور وہ اُس کے سب سے بڑے داعی، مبلغ اور عارف تھے۔
میں مولانا کی کتابوں کا مطالعہ غالباً 25 سال سے کر رہا ہوں۔ مطالعہ کے دوران میری سوچ میں کافی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ سب کا ذکر یہاں ممکن نہیں ہے۔ لیکن کچھ باتوں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں پہلے اکرام مسلم میں جیتا تھا، لیکن آج میں اکرام انسان میں جی رہا ہوں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ آج میرے دل میں کسی کے لیے کوئی نفرت نہیں ہے، نہ مسلمانوں کے لیے، اور نہ غیر مسلموں کے لیے۔ اس کے علاوہ معرفت الہیٰ، دعوت الیٰ اللہ، تدبر قرآن، وغیرہ ۔ یہ ساری چیزیں ہیں، جو مولانا کی کتابوں کے مطالعہ کے نتیجے میں مجھے حاصل ہوئی ہیں۔ (عبد الرؤف خطیب، چپلن، سی پی ایس مہاراشٹر)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues