Al-Risala · August 2021 · page 49

مولانا کی آئیڈیالوجی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۴۹

بے مثال شخصیت فاروق مضطر، راجوری، جموں 21 اپریل کی شب مولانا وحید الدین خان صاحب داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے ہم سب سے رخصت ہو گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ مولانا کے امت مسلمہ پر بے پناہ احسانات ہیں جس کا اعتراف تمام علمی اور ملی حلقوں میں کھلے دل سے ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر تعزیتی تاثرات کا سلسلہ جاری ہے اور ہر ایک شخص نہ صرف سوگوار ہے بلکہ فکر مند ہے کہ مولانا جیسی عبقری، صالح اور متحرک شخصیت کے سانحہ ارتحال کے بعد جو عظیم خلا پیدا ہوا ہے وہ کیسے پر ہوگا۔ عام احساس یہی ہے کہ صدیوں بعد ہی ایسی مقتدر مخلص اور جامع العلوم اور جامع الکمالات اور جامع الصفات شخصیات ظہور پاتی ہیں۔ مولانا کی خدمات کی ابتدا تعمیر و اصلاح ملت سے ہوئی اور آخر میں دعوت الی اللہ کے پیغمبرانہ مشن، ادخال کلمہ یعنی قرآنی پیغام کو ہر قوم ، نسل ، خانوادہ اور فرد تک پہنچانے پر موقوف ہوگئی۔

مولانا نے پون صدی سے زیادہ اپنی شعوری زندگی دین اسلام کے اصل ماخذوں یعنی قرآن و سنت کے ازسر نو مطالعہ کی بنیاد پر اسلام کی اساسی تعلیمات کو دریافت کرنے میں لگادی اور ان اساسی تعلیمات کی بنیاد پر احیائے اسلام و ملت کا عظیم مشن الرسالہ مشن، القرآن مشن اور سینٹر فارپیس اینڈ اسپر بچوئلٹی انٹرنیشنل کے نام سے تن تنہا منظم کیا تا ہم جلد ہی اُن کے اخلاص کے جواب میں نصرت غیبی سے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے لوگ دنیا بھر سے اس تحریک / مشن سے وابستہ ہوتے چلے گئے۔ اور آج دنیا کی 30 سے زیادہ زبانوں میں قرآن کے تراجم موجود ہیں اور دنیا کے ہر کونے میں اس مشن کے وابستگان رضائے الہی کے حصول کے لیے سرگرم اور متحرک ہیں۔ مولانا کی تعلیمات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اندرون خانہ جو گروہی مقابلہ و مناظرہ کا ماحول تھا نئی نسل نے اس سے مکمل طور اپنے کو الگ کر لیا اور محض تعمیری اور مثبت رویوں کی بنیاد پر احیائے ملت کے مشن سے اپنی وابستگی کو گہرا کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page