مولانا کی آئیڈیالوجی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۵۰
مولانانے قرآن واسلام کو انسانیت کا کُنسرن بتایا انھوں نے بین المذاہب ڈائیلاگ کو رواج دیا اور ہر قسم کے تصادم اور تناؤ سے مسلم امت کو دور رہنے کی تعلیم و ترغیب دی۔ ملک کے اندر اور باہر ہر قسم کی نظری اور عملی انتہا پسندی کو پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے منافی بتایا۔ برصغیر کی جدید تاریخ میں وہ پہلے مذہبی عالم ہیں۔ جو مسلمانوں کے علاوہ ہم وطنوں میں بھی برابر احترام اور عزّت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
مولاناکی تصنیفات انگریزی، ہندی، عربی اور اُردو میں 200 سے زیادہ ہیں تا ہم جو کتابیں بہت مقبول ہیں ان کے نام اس طرح ہیں : مذہب اور جدید چیلنج، مارکسزم تاریخ جس کو رد کر چکی ہے، الاسلام، عقليات اسلام، ظہور اسلام، راز حیات، راہ عمل، صراط مستقیم، کتاب معرفت، مطالعہ قرآن، معرفت قرآن، حکمتِ اسلام، عظمتِ قرآن، مطالعہ حدیث، عظمتِ اسلام، مطالعہ سیرت، پیغمبر انقلاب، سیرتِ رسول، الربانیہ، حقیقت کی تلاش، خدا کی دریافت، فکر اسلامی وغیرہ۔ مولانانے اپنی ڈائریوں میں جو کچھ اپنے تجربات ومشاہدات یا تاثرات رقم کیے ہیں، وہ اعلیٰ پائے کا علمی ڈیٹا ہیں۔ اس میں ارباب علم و دانش کے لیے اپنے علمی ذوق کی تسکین کا وافر سامان موجود ہے، اگر وہ بے تکلف اور بے تعصب ہو کر اس کا مطالعہ کریں۔
مولانانے قرآن واسلام کے فروغ و تعارف کے لیے دنیا بھر کے درجنوں ملکوں کے سفر کیے اور سفرنامے قلم بند کیے اور وہاں کے تہذیبی، ثقافتی ماحول کا بنظر غائر مطالعہ کیا اور بتایا کہ زندہ قوموں کی کن امور پر خصوصی توجہ رہی ہے۔ اور دوسری اقوام کے بالمقابل مسلمانوں کی زبوں حالی یا پسماندگی کے کیا اسباب ہیں جن پر کام نہیں ہوسکا۔ اور اب کرنے کا کام کیا ہے۔ ان کی ایک نہایت وقیع تالیف تذکیر القرآن ہے، جو جدید محاورے کی زبان میں قرآن مقدس کی تفسیر ہے۔ اس میں انہوں نے دوسری تفاسیر قرآن کے بالمقابل علمی مباحث سے قطع نظر قرآنی پیغام کو کچھ اس طرح کھولنے کی کوشش کی ہے کہ ہر آیت اور ہر رکوع کے مطالعے کے بعد بندہ اپنے آپ کو خدا کی معیت میں محسوس کرے۔ بندہ خدا سے ہم کلامی کے تجربے سے گزرے اور اپنے آپ کو خدا کی پناہ میں محسوس کرنے لگے۔
انہوں نے ہند پاک ڈائری لکھ کر ایک طرف تقسیم وطن کے بحرانی منظر کو ہمارے روبرو کیا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues