Al-Risala · August 2021 · page 51

مولانا کی آئیڈیالوجی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۵۱

ہے۔ دوسری طرف برصغیر کی قیادت کی ناعاقبت اندیشیوں کے حوالے سے بہت سے تاریخی حقائق سے پردہ اٹھایا ہے اور مسلم سماج کو حقیقت پسندانہ راہ عمل کو اپنانے کی صلاح دی ہے۔ الغرض انہوں نے جدید علم کلام، تجدید دین، حقیقت معرفت، اسلامی سماجیات، قرآن و سیرت، تعمیر واصلاح، دعوت واحیائے دین کو موضوع بنایا اور انتہائی مدلل اور مؤثر پیرائے میں عظیم الشان لٹریچر ہمیں دیا، جو مدتوں طالبانِ حق اور فلاح و نجات کے لیے فکرمند افراد کے لیے مفید اور راہ نما ثابت ہوگا۔ ایک صاحب طرز داعی مولانا ابو عمار زاہد الراشدی مولانا وحید الدین خاں کی وفات اہلِ دین کے لیے باعث صدمہ ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک صاحبِ طرز داعی تھے جن کی ساری زندگی اسلام کی دعوت کو عام کرنے اور اپنی فکر کے مطابق دعوت کے ناگزیر تقاضوں کو اجاگر کرنے میں گزری۔ وہ دعوتِ اسلام کے روایتی اسلوب کے بعض پہلوؤں سے اختلاف رکھتے تھے اور اس حوالہ سے کچھ تفردات کے حامل بھی تھے مگر مجموعی طور پر ان کی محنت، 1۔ دعوتِ دین کے عصری تقاضوں کی نشاندہی 2۔ نوجوان نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کا ازالہ 3۔ اور افہام وتفہیم کی عصری ضروریات کو سامنے لانے کے لیے ہوتی تھی، اور یہی ان کی وسیع تر پذیرائی کا باعث تھی۔ برطانیہ کے ایک سفر کے دوران مجھے ان سے ملاقات و گفتگو کا موقع ملا تو ان کے خلوص و سادگی نے بہت متاثر کیا۔ ان کی گفتگو اور تحریر دونوں عام فہم اور مخاطبین کی ذہنی سطح اور نفسیات کو سامنے رکھ کر ہوتی تھیں جو میرے نزدیک آج کے دور میں دعوتِ دین کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی کوششوں کو قبول فرمائیں اور عفو و فضل کے ساتھ انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمين۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page