Al-Risala · August 2021 · page 52

مولانا کی آئیڈیالوجی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۵۲

اپنے عہد کی ایک منفرد آواز جاوید احمد غامدی مجھے بے حد صدمہ ہوا، مولا نا وحید الدین خان ایک بڑی ہی غیر معمولی شخصیت تھے۔ میری نسبت تو ان کے ساتھ یہ ہے کہ ہم ایک ہی استاد کے شاگرد ہیں، اس فرق کے ساتھ کہ انہوں نے استاد امام امین احسن اصلاحی (وفات 1997) سے ابتدائی دور میں تعلیم پائی اور مجھے یہ شرف استاد امام کے آخری دور میں حاصل ہوا۔ مولا نا وحید الدین کی آواز ایک بڑی منفرد آواز تھی۔ ایسی منفرد کہ شاید نہ اس سے پہلے سنی گئی اور نہیں کہا جا سکتا کہ پھر کبھی سنی جائے گی۔ ان کا بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ دورِ حاضر میں دین کی جو سیاسی تعبیر کی گئی انہوں نے خالص علمی سطح پر اس کی غلطی واضح کی، ان کی کتاب ”تعبیر کی غلطی“ کو پڑھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ کیسا اعلیٰ درجہ کا محققانہ ذوق رکھتے تھے اور اگر وہ اس طرح کہ تحقیقی مباحث کو اپنا کام بناتے تو کیسی غیر معمولی چیز ان کے ہاتھ سے نکل سکتی تھی لیکن بتدریج انہوں نے تذکیر اور مسلمانوں کی عمومی اصلاح کو اپنا موضوع بنا لیا، چنانچہ اس لحاظ سے بھی بے مثال چیزیں ان کے قلم سے نکلی ہیں۔

میرا خیال ہے کہ جتنی چیزیں اُن کے قلم سے نکلیں موجودہ زمانہ میں بہت کم لوگ ہوں گے کہ جنہوں نے اتنا لکھا ہوگا اور وہ بھی ہر موضوع سے متعلق۔ تاہم اصل چیز یہی تھی کہ دین کی حقیقت واضح کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی سچی معرفت لوگوں میں پیدا کی جائے۔ مسلمانوں نے اس وقت تک اپنے لیے جو سیاسی لائحہ عمل اختیار کر رکھا ہوا ہے اس کی غلطی اُن پر واضح کی جائے، مسلمانوں کے لیے کرنے کا اصل کام کیا ہے؟ اس کو اُن پر واضح کیا جائے۔ یہ اُن (مولانا) کے موضوعات تھے۔ ان موضوعات میں بھی میں یا آپ یا کوئی بھی صاحب علم ان سے اختلاف کر سکتا ہے۔ لیکن وہ بڑی درد مندی کے ساتھ، بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنی بات بیان کرتے تھے، کہیں تمثیلوں میں، تو کہیں زندگی کے عمومی معاملات میں رکھ کر اسے واضح کرتے تھے اور ساری زندگی یہی کام کرتے رہے۔ الرسالہ کو انہوں نے اس موضوع پر ایک کلاسیک بنا دیا، ہمیشہ اس کو اسی حیثیت سے پیش کیا جاتا رہے گا۔ اس لیے میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page