مولانا کی آئیڈیالوجی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۵۴
کیا ہے، تمھیں اپنے سیاسی اور سماجی معاملات میں کیا رویہ اختیار کرنے چاہئیں، تمھارے لیے مثبت طرزِ عمل کیا ہے جسے تمھیں ہدف بنا کر کام کرنا ہے؟ اس معاملے میں جو بنیادی پیغام اُنھوں نے مسلمانوں کو دیا ہے، وہ یہ ہے کہ ردِ عمل کی نفسیات سے نکل کر مثبت سوچ کے ساتھ دنیا اور اُس کے معاملات کو دیکھو۔ تمھارے پاس جو ایک بہت بڑی متاع ہے، دین کی متاع، اُس کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرو۔
یہ جس کارنامے کی طرف میں نے توجہ دلائی ہے، یہ بڑا غیر معمولی ہے۔ اس لحاظ سے کہ دین کے مختلف احکام میں، اُن کی شرح و وضاحت میں اگر کہیں کوئی غلطی ہو جائے ۔ اور ظاہر ہے کہ کسی صاحبِ علم کا کام غلطیوں سے پاک نہیں ہے ۔ ان کے ساتھ لوگ اتفاق بھی کریں گے ، اختلاف بھی کریں گے ۔ مگر اس سے کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ مثلاً رفع یدین کے بارے میں ایک شخص کی ایک رائے ہے، دوسرے شخص کی ایک دوسری رائے ہے۔ اسی طرح سجدہ کیسے کرنا ہے، تشہد میں کیسے بیٹھنا ہے، نماز کی ابتدا کیسے کرنی ہے؟ یا اسی طرح کی بعض دوسری چیزیں ہیں۔ اُن میں اختلافات ہوتے ہیں، ہوتے رہے ہیں، ہوتے رہیں گے۔ لیکن دین بہ حیثیت مجموعی کیا ہے، اُس کا مقصد کیا ہے، وہ ہم سے کیا چاہتا ہے، اُس کے احکام میں باہمی طور پر کیا نظم قائم ہوتا ہے۔ وہ بہت اچھا لکھنے والے تھے۔ اپنے بارے میں بالکل درست کہتے تھے کہ اُنھوں نے اردو زبان کو، خاص طور پر مذہبیات کے دائرے میں، ایک عصری اسلوب دیا ہے۔ وہ اپنی بات کو نہایت وضاحت سے بیان کرتے تھے، اُس کو تمثیلوں میں واضح کرتے تھے اور زندگی کے عمومی معاملات میں رکھ کر اُس کو دکھاتے تھے۔ ساری زندگی وہ یہی کام کرتے رہے۔
مسلمان بڑی بد قسمت قوم ہیں۔ یہ اپنی عظمتوں کے معاملے میں بھی اختلاف اور اتفاق کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بعض بہت بڑے لوگ ہیں جن سے ہم اختلاف کرتے ہیں اور بعض اوقات بڑا اصولی اختلاف کرتے ہیں، جیسے امام غزالی ہیں، شاہ ولی اللہ ہیں۔ لیکن کیا اُن کی عظمت کا انکار کر دیا جائے گا؟ ماضی کی شخصیات ہوں یا حال کی، ہمیں سب کے علم و فکر یا سیرت و کردار کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے، ادب اور شائستگی کے ساتھ اُن سے اختلاف کی روایت ڈالنی چاہیے۔ مولانا وحید الدین خاں تنہا کام کرتے تھے۔ کوئی جماعت، کوئی فرقہ، کوئی گروہ یا کوئی بڑا ادارہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues