مولانا کی آئیڈیالوجی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۵۵
اُن کی پشت پر نہیں تھا۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ــ "کان امة فی رجل" ــ ایک ایسا آدمی جس کے وجود میں ایک پوری امت جمع تھی۔ وہ آدمی آج اپنے پروردگار کے پاس واپس چلا گیا ہے، گویا، ہمارے دور کی ایک بڑی عظمت تھی، جواب ہم سے رخصت ہوگئی ہے۔
اس طرح دعوت کو انہوں نے ایک لحاظ سے اپنی فکر، اپنی تمام تحریروں میں مرکزی حیثیت دی تھی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ [ یہ تحریر غامدی صاحب کی ویڈیو پیغام پر مبنی ہے ] انسان کی تحریر ابد الآباد تک باقی رہتی ہے مولانا وحید الدین خان ( 2021-1925ء ) کی رحلت ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مرحوم تقریباً ایک صدی تک پورے خلوص کے ساتھ تروج و فروغ اسلام کے لیے جہاد بالقلم میں مصروف عمل رہے ۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کو روایتی انداز کے بجائے عصری مقتضیات کے مطابق پیش کیا۔ بصائر و عبر کا اظہار اور حقائقِ اسلامیہ کا انکشاف ان کی تحریروں کا خاصہ تھا۔ میں ان کے اہل خانہ اور محبین و مستفیدین سے اظہار تعزیت کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے اور ان کے علمی شذرات سے امت مستفید ہوتی رہے ۔ ( ڈاکٹر محمد طاہر القادری ، پاکستان )
اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مولانا کی علمی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ عصر حاضر میں قرآن پاک کی جو خدمت مولانا وحید الدین خاں صاحب نے کی، وہ نگاہوں کے سامنے ہے۔ مولانا نے جدید اور قابل فہم اسلوب میں دین کی تشریح کی۔ اللہ تعالیٰ ان کی علمی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور امت کے لیے چشمہ ہدایت بنادے ۔ آمین ( اویس احمد شانگلہ )
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues