مولانا کی آئیڈیالوجی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۵۶
مولانا وحید الدین خاں ”ایک منفرد شخصیت“ شمشاد محمد خاں، ڈائریکٹر آئی پی سی آئی، UK یہ غالباً 1986ء کا واقعہ ہے کہ میرا ساؤتھ افریقہ جانا ہوا۔ قیام شیخ احمد دیدات کے مکان پر تھا۔ وہ ویرالم میں قیام پذیر تھے۔ یہ چھوٹا شہر ڈر بن کے نزدیک واقع ہے۔ جہاں ان کا دفتر ہے۔ ان کے یہاں قریباً ایک ہفتہ مقیم رہا۔ ان کی کتب بھی دیکھنے کو ملیں۔ اور وہیں میں نے انگلش کا الرساله دیکھا، بہت پسند آیا۔ شیخ دیدات سے اس بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ وہ الرساله سے بہت متاثر تھے۔ انگلینڈ واپس پہنچ کر میں نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کو فون کیا۔ فون پر ان کی آواز ایک جوان آدمی جیسی لگی۔ کافی طویل گفتگو رہی۔ ان کو انگلینڈ آنے کی دعوت بھی دی، جو محترم نے قبول کرلی۔ الرساله کا آرڈر بھی دیا اور درخواست کی کہ ہر ماہ اردو اور انگریزی کے شمارے روانہ کیے جائیں۔ اور پھر الحمد للہ مولانا صاحب کئی دفعہ انگلینڈ تشریف لائے، یہاں ان کی تقاریر کے کئی پروگرام بھی کروائے جو ماشاء اللہ بہت کامیاب رہے ۔ ان کے چاہنے والے یہاں پہلے سے موجود تھے۔ اب تعداد اور بھی بڑھنے لگی تھی۔ پھر 1999ء میں میرا اہلیہ کے ساتھ انڈیا جانا ہوا، مولانا کے یہاں ہی قیام تھا۔ بھائی ڈاکٹر ثانی اثنین بھی اپنی والدہ اور ہمشیرہ ڈاکٹر فریدہ خانم اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ وہیں مقیم تھے۔ ان کے بچے عدنان اور ماریہ اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ ان کی معصوم اور دلچسپ باتیں سن کر ہم سب بہت محظوظ ہوا کرتے۔ عدنان کا یہ جملہ ”مار یہ گڑ گئی“ (ماریہ گر گئی) یاد آتا ہے تو اب بھی زیر لب مسکراہٹ ابھر آتی ہے۔ مولانا صاحب سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی اور بہت کچھ سیکھا۔ میں نے جانا کہ مولانا صاحب کی سوچ بہت گہری تھی۔ ان کا ایک اپنا انداز فکر تھا۔ جو بلاشبہ لمبی تحقیق کے بعد رونما ہوتا ہے۔ وہ دین اسلام کے معاملہ میں بہت ہی سنجیدہ تھے اور مسلمانوں کے سچے خیر خواہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues