Al-Risala · August 2021 · page 58

مولانا کی آئیڈیالوجی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۵۸

ایک عارف باللہ کی بات حافظ سید عمیر احمد عمری مدنی، عمر آباد، تامل ناڈو ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے، چمن میں دیدہ ور پیدا مولانا وحید الدین خاں رحمۃ اللہ علیہ جیسی عظیم شخصیت صدیوں میں کہیں کہیں پیدا ہوتی ہے۔ بجا طور پر انھیں ایک تاریخ ساز شخصیت کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی دین وملت کی خدمت کے لیے وقف کر دی ۔ چاہتے تو بڑے عیش و آرام سے زندگی گزار سکتے تھے۔ مگر انھوں نے سادگی کو پسند کیا۔ فقیر بے نوا کی طرح زندگی گزار دی۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ صوفی منش تھے۔ آپ کی زندگی اس حدیث کے مطابق تھی، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: مَنْ طَالَ عُمْرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 17698)۔ یعنی لوگوں میں بہتر کون ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ جس کی عمر طویل ہو، اور اس کے اعمال اچھے ہوں۔

جہاں آپ کو مشرقی علوم میں گہرائی تھی، وہیں مغربی علوم میں بھی بڑا کمال حاصل تھا۔ آپ کی تصانیف کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ آپ کا مطالعہ کتنا وسیع تھا۔ آپ نے الرسالہ کے ذریعے تنہا وہ خدمت انجام دی، جو ایک ادارے کے لیے بھی مشکل تھی۔ تقریباً چالیس سال سے آپ نے الرسالہ کے ذریعے خدا کے بندوں کو خدا کا پیغام پہنچانے کی آخری حد تک کوشش کی۔ اور یہ رسالہ ہر ماہ وقت سے پہلے ہی منظر عام پر آ جایا کرتا تھا۔ اس کی اشاعت میں کوئی رکاوٹ مانع نہیں تھی۔ نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ ملک سے باہر بھی حق کا پیغام پہنچانے کی پوری کوشش کی۔ اس سلسلے میں زندگی بھر سفر کرتے رہے۔ آپ کو کئی زبانوں میں عبور حاصل تھا۔ اردو آپ کی مادری زبان تھی۔ اس کے علاوہ فارسی، عربی، اور انگریزی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ تذکیر القرآن آپ کی ایک قابل قدر اور مقبول تفسیر ہے، یہ ہر خاص و عام کی پسندیدہ تفسیر ہے۔ مذہب اور جدید چیلنج اور کتاب معرفت اور ان جیسی سینکڑوں کتابیں آپ نے تصنیف کی ۔ الرسالہ کا ہر ورق زندگی کا بھر پور پیغام دیتا ہے۔ ہر صفحہ کے اندر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page